صفحہ اول | مسائل | کارگل محاذ کے شہید کیپٹن فرحت حسیب حیدر کی یادگار حکام کی عدم توجہی کے باعث ٹوٹ پھوٹ کا شکار

کارگل محاذ کے شہید کیپٹن فرحت حسیب حیدر کی یادگار حکام کی عدم توجہی کے باعث ٹوٹ پھوٹ کا شکار

Font size: Decrease font Enlarge font
کارگل محاذ کے شہید کیپٹن فرحت حسیب حیدر کی یادگار حکام کی عدم توجہی کے باعث ٹوٹ پھوٹ کا شکار

تلہ گنگ(محمد وحید)کارگل محاذ کے شہید کیپٹن فرحت حسیب حیدر کی یادگار حکام کی عدم توجہی کے باعث ٹوٹ پھوٹ کا شکار ،لواحقین نے از سرنو بحالی کیلئے درخواست دیدی۔کارگل محاذ کے شہید کیپٹن فرحت حسیب حیدر کے بھائی عترت عباس نے اپنی تحریری درخواست میں بتایا کہ میرا بھائی کیپٹن فرحت حسیب حیدر شہید کارگل کے محاذ پر 1999میں شہید ہوا ہمیں شہید کی میت بھی نہ مل سکی۔ اس وقت تحصیل ناظم ملک طارق اقبال مرحوم اور لیڈی کونسلر ملکہ نوشین کی تجویز پر تحصیل چوک تلہ گنگ کا نام حسیب شہید چوک رکھا گیا اور ایک یادگاری تختی نصب ہوئی جو بعد میں گاڑی کی ٹکر سے تباہ ہوگئی ، کئی بار متعلقہ حکام کو بتایا گیا لیکن کچھ نہ ہوا آخر کار سماجی کارکن ملک صابر اگرال کی وساطت سے یادگار کی دوبارہ پلیٹ بنی اور ملک سلیم اقبال کے کہنے پر سینٹری انسپکٹر توقیر نے یادگار دوبارہ بنوائی ۔ تاہم یادگار انتہائی بے ڈھنگی تعمیر ہوئی ہے ۔جو اب بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ۔انہوں نے کہا کہ کیا زندہ قومیں اپنے مشاہیر کی یادگاریں ایسی تعمیر کرتی ہیں انہوں نے یادگار کی دوبارہ تعمیر کی استدعا کی ۔

Subscribe to comments feed Comments (3 posted)

avatar
کارگل محاذ کے شہید کیپٹن فرحت حسیب حیدر کی یادگار حکام کی عدم توجہی کے باعث ٹوٹ پھوٹ کا شکار.
avatar
Official UK retailer of Omega watches with 0% finance available today. Huge Omega watch collection all with Fast, Free UK delivery.
Reply Thumbs Up Thumbs Down
-2
Report as inappropriate
avatar
Très bonne publication. Je viens tout juste de tomber sur votre blog et je voulais dire que j'ai vraiment aimé lire vos articles de blog.
Reply Thumbs Up Thumbs Down
-2
Report as inappropriate
total: 3 | displaying: 1 - 3

Post your comment

  • Bold
  • Italic
  • Underline
  • Quote

Please enter the code you see in the image:

Captcha
  • Email to a friend Email to a friend
  • Print version Print version
  • Plain text Plain text

Tagged as:

No tags for this article

Rate this article

0