صفحہ اول | کالم | ڈھوک کے مقام پر سواں ڈیم ملک کی آبی تقدیر بدل سکتا ہے

ڈھوک کے مقام پر سواں ڈیم ملک کی آبی تقدیر بدل سکتا ہے

Font size: Decrease font Enlarge font
ڈھوک کے مقام پر سواں ڈیم ملک کی آبی تقدیر بدل سکتا ہے

ڈھوک پٹھان کے مقام پر سواں ڈیم ملک کی آبی تقدیر بدل سکتا ہے

ملک میں پانی کا مسئلہ گھمبیر صورتحال اختیار کر چکا ہے ۔ ہمارے اپنے علاقہ میں زیر زمین پانی کی سطح مسلسل گر رہی ہے ۔ کالا باغ ڈیم کی صورت میں تلہ گنگ کے مغربی علاقہ جات متاثر تو ہوتے لیکن علاقہ میں جہاں زیر زمین پانی کی سطح بلند ہو جاتی وہیں ہزاروں ایکڑ ہمارے علاقہ کو بھی پانی کی فراہمی آسان ہو جاتی ۔ لیکن بد قسمتی سے یہ منصوبہ متنازعہ ہو گیا ۔ علاقہ کا ایک اور بڑا منصوبہ گھمبیر ڈیم کا بھی ہے ۔ اس کے ساتھ جو حشر ہو رہا ہے ۔ وہ سب کے سامنے ہے ۔ آصف علی زرداری نے بطور صدر پاکستان اس منصوبے کا افتتاح کیا تھا ۔ افتتاح کے بعد پیپلز پارٹی دور حکومت میں اس پر کوئی خاص پیش رفت نہ ہو سکی ۔ ن لیگ دور حکومت میں ایکبار پھر اس منصوبے پر کام شروع تو ہوا ۔ لیکن کام میں وہ تیزی نہ آسکی جس کی توقع کی جا رہی تھی ۔ تاہم یہ منصوبہ علاقہ کی حد تک ہے ۔ اب جبکہ ملک میں چیف جسٹس آف پاکستان سمیت حکومت وقت نے بڑے ڈیمز کی تعمیر کر لئے کمر کس لی ہے ۔ تو ڈھوک پٹھان کے مقام پر پاکستان کے ایک ہونہار سپوت انجینئر انعام الرحمن ماہر انجینئر کی وہ کاوش یاد آئی جو انہوں نے باقاعدہ فزیبلٹی کی صورت میں تیار کر کے نیشنل میڈیا میں بتائی تھی ۔ تاہم شنوائی نہ ہونے اور متعلقہ حکام و حکومت کی عدم دلچسپی پر وہ ملک چھوڑ کر کینیڈا شفٹ ہو چکے ہیں ۔ ان کے مطابق  پوٹھو ہار میں ” مجوزہ سواں ڈیم‘‘ پر کام شروع کر دیا جائے تو اس پر ایک تو ہماری لاگت بھی کم آئے گی اور دوسرا انتہائی قلیل وقت میں بننے اور غیر متنازعہ ہونے کی وجہ سے ورلڈ بینک سمیت کسی بھی عالمی مالیاتی ادارے کو اس کے لیے امداد دینے میں کوئی اعتراض بھی نہ ہو گا۔ پاکستان میں سیلابی پانی کا ذخیرہ کرنے کے لیے بہترین مقام پوٹھو ہار میں وادیٔ سواں ہی ہے۔

یہاں 38-48 ملین ایکڑ فٹ پانی سما سکتا ہے‘ جو کہ تربیلا‘ کالا باغ ڈیم اور دیامر بھاشا کے ذخیروں سے آٹھ گنا بڑا ہے۔ تلہ گنگ سے ڈھلیاں کے درمیان ڈھوک پٹھان کے قریب منگلا ڈیم جتنی بڑی سد تعمیر کرکے یہ ذخیرہ وجود میں لایا جا سکتا ہے‘ جس سے پاکستان کی تقدیر بدل کر رہ جائے گی۔تربیلا سے سرنگوں اور غازی بروتھا‘ جیسی معمولی زیادہ ڈھلوان کی نہر سے پانی منتقل کیا جائے گا ۔سواں ڈیم سے چونکہ ٹیکنیکل طور پر کوئی نہر نہیں نکل سکتی‘ اس لیے اسے تربیلا کی توسیع بھی کہہ سکتے ہیں۔جولائی تا ستمبر پاکستان کا ہر صوبہ جتنا چاہے‘ اپنے حصے کے پانی کا رخ تربیلا سے اس ذخیرے کی طرف موڑ لے ‘اس سے ایک طرف پشاور میں سیلابی پانی و نکاس بہتر ہو جائے گا ‘تو دوسری طرف زیریں پنجاب اور سندھ میں انتہائی درجے کے سیلابوں کا مسئلہ بھی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے حل ہو جائے گا۔

‘ ان کا کہنا ہے کہ صرف6 بلین ڈالر کی لاگت سے مجوزہ سواں ڈیم سے پانچ ہزار میگا واٹ تک بجلی اگلے چار سال میں حاصل کر سکتے ہیں ۔ اس پر اٹھنے والے اخراجات کی بات کی جائے


اور اس کے ڈیزائن اور سائز کو سامنے رکھا جائے‘ تو اس سے متعلق نہروں کی کھدائی پر بھاری اخراجات آئیں گے‘ لیکن اس کے با وجود اس کی کل لاگت بھاشا ڈیم کا نصف ہو گی۔انجینئرانعام الرحمن کے تیار گئے اس تمام منصوبے کے مطابق سواں ڈیم سے یہ بھی ہو گا کہ تربیلا سے اوپر مجوزہ نئے پن بجلی گھروں کی کار کردگی بھی بڑھ جائے گی اور ساتھ ہی تربیلا کا کردار صرف برسات میں پانی موڑنے سیلاب روکنے اور بہتے پانی سے بجلی بنانے کا رہ جائے گا‘ جس سے اس کی کار آمد عمرمیں بھی اضافہ ہو گا’ جبکہ اس سے پانی ذخیرہ کرنے کی سو سال تک کی تمام ذمہ داری سواں ڈیم سنبھال لے گا اور ساتھ ہی دریائے سندھ کے بہاو میں موجو دہ رکاوٹ بھی ختم ہو جائے گی اور تربیلا میں رکنے والی گار( سلٹ) بہائو کے ساتھ ٹھٹھہ اور بدین تک پہنچنا شروع ہو جائے گی ‘جس سے سمندر کا رسائو اور پیش قدمی رک جائے گی۔ سندھ ڈیلٹا کیلئے چھ سے دس ملین ایکڑ فٹ پانی کا مختص کوٹہ پورے سال کے دوران دستیاب ہو گا ‘ جس سے تھر کے جنگلات‘بحری اور دریائی حیات اور ماحولیات کو بھر پور فائدہ پہنچنے سے سندھ خوش حالی کی طرف بڑھے گا۔

 

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے عظیم مفاد میں اس منصوبہ کی جانب توجہ دلانے کے لئے مقامی منتخب ممبران اسمبلی حکومتی متعلقہ فورم کے ساتھ ساتھ میڈیا پر بھی اپنا بھر پور کردار ادا کریں ۔

Subscribe to comments feed Comments (0 posted)

total: | displaying:

Post your comment

  • Bold
  • Italic
  • Underline
  • Quote

Please enter the code you see in the image:

Captcha
  • Email to a friend Email to a friend
  • Print version Print version
  • Plain text Plain text

Tagged as:

No tags for this article

Rate this article

0