صفحہ اول | کالم | پی ٹی آئی/حافظ عماریاسر کا کڑا امتحان

پی ٹی آئی/حافظ عماریاسر کا کڑا امتحان

Font size: Decrease font Enlarge font
پی ٹی آئی/حافظ عماریاسر کا کڑا امتحان

قارئین!ایک طویل تجربہ کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ وزیراعظم عمران خان یاحافظ عمار یاسر دونوں کا بیک گراؤنڈ ایک جیسا ہے دونوں کا تعلق نہ تو کسی سیاسی گھرانے سے اور نہ ہی لینڈ لارڈ اور ہی کسی حادثہ کی پیداوار ہیں بلکہ دونوں کا تعلق ایک طویل سیاسی جدو جہد سے ہے بلکہ ہار نہ ماننے والوں اور محنت اور اٹل ارادہ جیسی خوبیاں کوٹ کوٹ کر بھری ہیں۔ عمران خان بھی ایک کھلاڑی کے بعد سیاست میں وارد ہوئے اور22سال کی مسلسل محنت کے بعد آنے وزیراعظم ہے ۔
جب کے عماریاسر بھی متوسط طبقے سے تعلق عاجزی انکساری طبیعت کے بل بوتے پر تلہ گنگ اور چکوال کی بہت بڑی طاقتوں سے ٹکر لی جو کے وقت کے حاکم غشیرتھے لیکن حافظ عمار یاسر کو ایک بہت بڑاکریڈٹ جو جاتا ہے وہ یہ ہے جب مسلم لیگ (ن) کا عروج تھا پورے پنجاب میں اور مرکز میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی لیکن پورے ملک سے دو تحصیلوں تلہ گنگ اور لاوہ مسلم لیگ (ن) سے زبردست مقابلہ کے بعد نہ صرف چھیں لیں بلکہ اڑھائی سال کا عرصہ جس میں درمے۔قدمے ۔سخنے اور بے تحاشہ ہارس ٹریڈنگ کے باوجود حافظ عمار یاسر کے تمام ممبران کونسل کمیٹی لاوہ اور تلہ گنگ مضبوطی کے ساتھ حافظ کے ساتھ کھڑے ہیں اور مسلم (ن) ان کا کچھ بگاڑ نہ سکی یہ تھی دلیری ہمت اور مضبوط ارادے کی ایک داستان۔گزشتہ قومی الیکشن کے بعدمنظر بالکل تبدیل ہو چکا ہے اب ضلعی ،صوبائی اور مرکزی سمیت کوئی رکاوٹ سامنے نہیںآئی ہے لہٰذا وہ تمام دوست ووٹر ۔سپورٹر جو بڑے حالات میں حافظ عمار یاسریا عمران کے ساتھ دیوار کی طرح کھڑے رہے ۔وہ اس کامیابی پراپنی طویل جدوجہد کا پھل چاہتے ہیں اور ظاہر جن لوگوں نے اتنا ظویل اور صبر ازما سفر کیا اب وہ اس قربانی کاصلہ بھی چاہتے ہیں لہٰذا اب عمران خان اور حافظ عمار یاسر پرایک بھاری ذمہ داری آن پڑی ہے کہ وہ اب ڈیلیور کریں۔
سادگی اور کفایت شعاری اپنی جگہ لیکن خالی پیٹ کھانا، ننگا بدن کپڑا اور غریب سر چھپانے کو چھت چاہتا ہے ۔ننگا سر،ننگا بدن اور خالی پیٹ اب باتوں اور نعروں سے نہیں بھرے گا بلکہ اس کیلئے عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے اور یہ اقدامات اب اٹھانے کی اشد ضرورت ہیے۔اس سلسلہ میں عمران خان اور حافظ عمار یاسر کو ایک تجویز دے رہاہوں۔حافظ صاحب ہمارا علاقہ چونکہ بارانی ہے اور پورا پنڈی ڈویژن جس میں سونا پیدا کرنیوالی زرعی زمینیں ہیں لیکن دوسرا سال مسلسل خشک سالی کی وجہ سے زمیندار لوگوں کے پیداواری اخراجات بھی پورے نہیں ہو سکے۔لٰہذا حکومت اگر سولر ٹیوب ویل کسانوں کو لگوا کر دے اور بے شک سبسڈی دے کر آسان قسطوں میں رقم وصول کرے تو راولپنڈی کے 80 فیصد مسائل حل ہو سکتے ہیں لہٰذا اس مسئلہ کی فوری طورپر اگر منصوبہ بندی شروع کردی جائے تو بہت جلد اس منصوبہ کے ثمرات ملنا شروع ہو جائیں گے۔زمیندار خوشحال ہوگا تو ملک خوشحال ہوگالہٰذا اس سلسلہ پر وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر اعظم سے مشورہ کرکے فوری طورپر اس سکیم کا آغاز کیا جائے تو جب 80% آبادی کے مسائل حل ہونا شروع ہو ں گے تو علاقہ بھر میں زرعی اجناس از قسم گندم،چنا اور دالوں سرسوں کی ضروریات مقامی سطح پر پوری ہونا شروع ہوجائیں گی ۔
قارئین! ایک اور ضمنی الیکشن بھی سر پر آن کھڑا ہے جس میں مقابلہ ون ٹو ون ہوگا چودھری سالک الہی اور تحریک لبیک کے میجر (ر) یعقوب سیفی کے درمیان ہوگا کیونکہ مسلم لیگ ن کے امیداور سردار فیض ٹمن ق لیگ کیساتھ جا ملے ہیں۔جبکہ جسٹس ڈیموکریٹ پارٹی کے پی ایچ ڈی ڈاکٹر قاضی محمد عامر آف پیڑہ فتحال بھی میدان میں موجودہیں ۔ 
چکوال( )ضلع چکوال کے علاقہ دھن چوراسی کے حوالے سے کی جانے والی تمام قیاس آرائیاں تاج برطانیہ کی طرف سے مرتب کی جانے والی تاریخ جہلم نے غلط ثابت کردیں۔ ضلع چکوال میں دھن چوراسی کے حوالے سے یہ روایت چلی آرہی تھی کہ یہ چوراسی دیہات پر مشتمل علاقہ ہے جو کہ ایک ڈھن( تالاب) کی شکل میں تھا اور 1525کے بعد عظیم مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر نے اس علاقے سے گزرتے ہوئے 84 دیہات مقامی لوگوں کو الاٹ کیے تھے اور ان دیہاتوں کے تمام ناموں کے آخر میں’’ لام ‘‘(ل) آتا ہے اور ان کیساتھ سے پانی کا نالا بھی گزرتا ہے۔ مگر اب تاریخ جہلم کے 1880کے بندوبست میں جو تاج برطانیہ نے کروایا تھا ا سمیں مجموعی طور پر54 دیہات سامنے آئے ہیں اور نہ ہی تزک بابری اور نہ ہی بندوبست ضلع جہلم میں ا س بات کا ذکر ہے کہ شہنشاہ بابر نے دلجبہ کے مقام پر پہاڑ کوکاٹ کر ڈھن کا پانی دریائے جہلم میں پھینکا تھا اور پھر84 گاؤں الاٹ کیے تھے۔ سرکاری بندوبست ضلع جہلم میں علاقہ دھنی کے جو44 دیہات ہیں ان کے نام اُڈھروال،سدوال،ڈھلال،تھرپال،وریامال،ستوال،تترال،نوروال،ہستال،لکھوال،مرحال،منوال،سرال،سرکال(کسر)،پڑھال،منگوال،لطیفال،نروال،اٹھوال،جمالوال،دومال،اچرال، ندرال،مسوال، تجبال، چتال، پنوال، اُدھوال، چکرال،کھیوال، سرکال (مائر)، وروال، کھنوال، بیگال، پیروال،مولوال، روپوال، بھگوال، کرسال، ڈھڈیال، دھیدوال، ہجیال، ربال اور چکوال شامل ہیں۔ جبکہ علاقہ لنڈی پٹی کے دیہاتوں دس دیہاتوں میں غازیال، جنڈیال(محمود)، جنڈیال( فیض اللہ)، کلیال، کال، محال،پڑھال،بڈھیال، گھنوال اور جسوال شامل ہیں۔ تاریخ بندوبست جہلم کے مطابق چوراسی ایک چوکور نما علاقہ قرار دیا گیا ہے جبکہ تزک اکبری میں اس علاقے کو دھن ملوکی لکھا گیا ہے۔ ضلع گجرات کی تاریخ میں بھی علاقہ دھن چوراسی کو ایک بڑا چوکور نما علاقہ قرار دیا گیا ہے اور یہ تاثر بالکل درست نہیں ہے کہ چوراسی کا مطلب ہندوسوں والا چوراسی ہے ، کیونکہ علاقہ دھن میں عمومی روایت اور خیال کیا جاتا ہے کہ علاقہ دھن چوراسی دیہات پر مشتمل ہے جوکہ درست نہیں ہے اوراس بارے میں کہ دھن چوراسی کے تمام دیہات کے آخر میں‘‘ ل‘‘ آتا ہے تو اس حوالے سے سرکاری بندوبست ضلع جہلم میں علاقہ دھن اور علاقہ لنڈی پٹی کے54دیہات ایسے ہیں جن کے آخر میں ’’ل‘‘ آتا ہے۔

Subscribe to comments feed Comments (0 posted)

total: | displaying:

Post your comment

  • Bold
  • Italic
  • Underline
  • Quote

Please enter the code you see in the image:

Captcha
  • Email to a friend Email to a friend
  • Print version Print version
  • Plain text Plain text

Tagged as:

No tags for this article

Rate this article

0