صفحہ اول | کالم | 9محرم الحرام اور ایک رات کی مہلت

9محرم الحرام اور ایک رات کی مہلت

Font size: Decrease font Enlarge font

تحریر قاضی محمد یعقوب

9محرم 61ھ بوقت عصر شمر ابن زیاد کا خط لیکر عمرو بن سعد کے پاس پہنچا ، جس میں لکھا تھا کہ میں نے سنا ہے کہ تو حسینؓ کیساتھ رواداری کرتا ہے اور راتیں ان کے ساتھ گزارتا ہے، جب میرا یہ خط پہنچے تو فورا ’’امام حسینؓ سے مقاتلہ کرنا اور اگر تجھ سے یہ نہیں ہو سکتا تو سرداری سے دستبردار ہو جا اور امارت سپاہ شمر ذوالجوش کو دے دے ۔ جب یہ خط لیکر شمر لعین ابن سعد کے پاس پہنچا تو ابن سعد نے از روئے افسوس کہا ، ’’ خدا تجھے بدترین جزا دے ، تو نے صلح نہ ہونے دی۔ امام حسینؓ تو فرزند علیؓ ابن ابی طالب ہیں اور وہ ہر گز راضی نہ ہوں گے کہ ابن زیاد کے مطیع ہوں اور ناچار مجھے ان سے لڑنا پڑے گا ، جو ان سے لڑے گا، اسے دنیا و عقبی میں نجات نہ ملے گی ۔ شمر نے کہا کہ میں ان باتوں کو نہیں جانتا ، اگر ابن زیاد کی اطاعت منور ہے تو اطاعت کرو ، ورنہ لشکر کی سرداری مجھے دے دو ‘‘۔
ادھر سیدناامام حسینؓ اپنے خیمے کے دروازے پر دیوار کا سہارا لے کر گھٹنوں پر سر رکھے بیٹھے تھے کہ آپ کی آنکھ لگ گئی تھی کہ اچانک فوج کے شورو غل کی آواز سن کر آپ کی بہن سیدہ زینبؓ پردے کے پاس آئیں اور امام عالی مقامؓ سے فرمایا ! دیکھئے ، دشمن کی فوج کی آواز بہت نزدیک سے آرہی ہے ۔ آپؓ نے سر اٹھایا اورفرمایا ! میں نے ابھی رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھا ، حضور ﷺ نے فرمایا ! تم عنقریب ہمارے پاس آنے والے ہو ۔ سیدہ زینبؓ نے یہ سن کر روتے ہوئے کہا ، ہائے مصیبت ، آپؓ نے فرمایا تمہارے لئے مصیبت نہیں ، اللہ تعالی تم پررحم فرمائے ، صبر کرو اور خاموش رہو ۔
ابھی یہ گفتگو ہو رہی تھی کہ حضرت عباس علم بردار ؒ نے کہا ، اے بھائی ، وہ لوگ تمہاری طرف آرہے ہیں ، آپؓ نے فرمایا ، جاؤ اور ان سے پوچھو کہ تم کس ارادے سے آئے ہو ؟ حضرت عباسؓ تقریبا 20 سواروں کو ساتھ لیکر یزیدی لشکر کی طرف گئے اور ان کے پاس جا کر پوچھا کہ تمہارا کیا ارادہ ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ابن زیاد کا حکم ہے کہ تم اس کی اطاعت قبول کرلوورنہ ہم تمہارے ساتھ جنگ کریں گے۔ حضرت عباسؓ نے واپس جا کر سیدنا امام حسینؓ کو اس بات سے آگاہ کیا ۔ آپؓ نے فرمایا، ان لوگوں سے کہو ، ہمیں ایک رات کی مہلت دے دیں تاکہ اس آخری رات میں ہم اچھی طرح نماز پڑھ لیں ، دعائیں مانگ لیں ، اور توبہ و استغفار کر لیں ۔ اللہ تعالی خوب جانتا ہے کہ مجھے نماز اور دعا و استغفار سے بڑا قلبی تعلق ہے۔
حضرت عباسؓ نے جا کر ابن سعد سے کہا کہ ہمیں ایک رات کی مہلت دو ۔ ابن سعد نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرنے کے بعد ایک رات کی مہلت دے دی ۔ اور وہ اپنا لشکر لے کر واپس چلا گیا ۔ اس کے بعد امام عالی مقامؓ نے اپنے تمام ساتھیوں کو ایک جگہ اکٹھا کرکے ان کے سامنے پہلے اللہ تعالی کی حمد و ثناء ، اور پھر حضور سرورکائناتﷺ پر درود و سلام پڑھنے کے بعد جو ایمان افروز خطبہ ارشاد فرمایا ، اس کا مختصر سا ضروری خلاصہ یوں ہے ’’ اللہ تعالی تم سب کو میری طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے۔ میںیقین رکھتا ہوں کہ ہمارا کل کا دن دشمنوں سے مقابلہ ہوگا، میں تم سب کو خوشی کیساتھ اجازت دیتا ہوں کہ رات اس تاریکی میں چلے جاؤ ، میری طرف سے کوئی ملامت نہ ہوگی ۔ بے شک یہ لوگ میرے ہی قتل کے طالب ہیں ، جب یہ مجھے قتل کریں گے تو پھر کسی اور کی ان کو طلب نہ ہوگی ‘‘ اس خطبہ کو سن کر سب سے پہلے شہنشاہ وفا حضرت عباس ؒ پھر آپ کے دوسرے بھائیوں ، بیٹوں ، بھتیجوں ، بھانجوں معہ اولاد عقیلؓ اور حضرت مسلم بن عجوسہ ؒ ، حضرت سعید بن عبد اللہ حنفی ؒ ، حضرت زبیر بن قیس ؒ سمیت آپؓ کے ہر ساتھی اور جان نثار نے اپنی اپنی عقیدت اور جانثاری کا اظہار کرتے ہوئے کہا ، کیا ہم صرف اس لئے چلے جائیں گے کہ آپؓ کے بعد زندہ رہیں ، خدا ہمیں وہ دن نہ دکھائے ، خدا وہ زندگی نہ دے جو آپؓ کے بعد ہو۔ ہماری جا و مال سب کچھ آپ پر قربان ۔
اس کے بعد آپؓ اور آپؓ کے تمام ساتھیوں ؒ اور اہل بیت ؒ نے نماز و دعا اور توبہ استغفار میں رات یوں گزاری کہ 
تلاوت او ر عبادت میں گزاری شب بیداری کی 
رضائے حق یہ تھے راضی ادائے شکر باری کی 
عبادت ان کا شیوہ تھا عبادت ان کی جاری تھی
عشاق پر سعادت کی سوئے مقصد تیاری تھی
ملیں گے آج نانا ﷺ سے دیدار مرتضیؓ ہوگا
شہادت پر سعادت سے عطاء حق رضا ہوگا 
حضرت سیدنا زین العابدین رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں اس رات شدید بیمار تھا اور میری پھوپھی سیدہ زینبؓ میری تیماداری فرما رہی تھیں ، اور میرے والد گرامی خیمہ میں ترتیب ساما ن حرب و ضرب فرما رہے تھے کہ آپ نے چند اشعار پڑھے ، جن کا مضمون یہ ہے 
اف اے زمان پر دغا ہے کس سے کی تو نے وفا
بازگشت ہر نفس بالاخر ہے سوئے خدا
جو بھی آیاد دہر میں تو نے اسے چلتا کیا 
میں چلا اس راہ پر ہر ایک جس پر آئے گا
سرکار سجاد ؒ فرماتے ہیں کہ میرے اوپر ان اشعار کا اثر شدید ہوا ، جس کی وجہ سے پیشمان ہو کر گریہ طاری ہونے لگا مگر اضطراب اہل خانہ کی بناء پر صبر کیا ، جب آپؓ ان امور سے فارغ ہوئے تو پھر اپنی خواہر محترمہ سیدہ زینبؓ کو یہ وصیت فرمائی ‘‘ ۔ اے خواہر گرامی ، میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ جب میں شہید ہو کر عالم بقاء کی جانب رحلت کروں ، گریبان چاک نہ کرنا، منہ نہ نوچنا ، اور واویلا نہ کہنا ، پس فی الجملہ اہل حرم کو تسلی دی (ماخذ سانحہ کربلا تالیف ، محمد عبد الکریم نعمانی ؍ سردار کربلا ، مصنف محمد محسن ) ۔ شہدائے کربلا زندہ باد 

Subscribe to comments feed Comments (0 posted)

total: | displaying:

Post your comment

  • Bold
  • Italic
  • Underline
  • Quote

Please enter the code you see in the image:

Captcha
  • Email to a friend Email to a friend
  • Print version Print version
  • Plain text Plain text

Tagged as:

No tags for this article

Rate this article

0