صفحہ اول | کالم | مفتی تنویر ڈھرنال

مفتی تنویر ڈھرنال

Font size: Decrease font Enlarge font

0346-1113685

مقصود کائنات حضرت محمد مصطفی ﷺ کے تعارف اور پہچان کی دوحیثیتیں ہیں ایک محمد بن عبداللہ ہونے کی حیثیت سے اور دوسرا محمد رسول اللہ ﷺ ہونے کی حیثیت سے،محمد بن عبد اللہ ہونے کی حیثیت سے آپ کی پہچان یہ ہے کہ آپ عرب میں سب سے بڑی قوم قریش کی شاخ بنوہاشم سے، عبداللہ کے گھر میں ،جناب عبد اللہ کے بیٹے،عبد المطلب کے پوتے اورحضرت آمنہ کے لخت جگر بن کر، ماہ ربیع الاول میں ولادت کی بے مثال شان لے کر تشریف لائے،آپ کا حسن و جمال باکمال اور لازوال تھا،آپ کا بچپن،لڑکپن،جوانی ہر عیب ،کمی اور گناہ سے پاک اور معصوم تھی،آپ ﷺ کی محمد بن عبداللہ ہونے کی حیثیت میں چالیس سالہ زندگی گزارنا محمد رسول اللہ ہونے کی لازوال دلیل تھی، پورے عرب میں محمد بن عبد اللہ ہونے کی حیثیت میں صادق اور امین کا لقب آپ کا خاصہ بن کر ر ہ گیا، وہ لوگ آپ سے اپنے جھگڑوں کا فیصلہ کروانے لگے،اس حیثیت کے ساتھ آپ ﷺکی پہچان میں موجودہ اور سابقہ دور میں کسی کافر کا بھی کوئی اختلاف نہیں، اسی لیے حدیبیہ کے موقع پر جو صلح نامہ لکھاگیا ، اس میں کفار مکہ نے محمدرسول اللہ لکھا ہوادیکھا تو کہنے لگے، اس کو مٹا دیں ہم محمد ﷺکو رسول اللہ نہیں مانتے اس جگہ محمد بن عبد اللہ لکھو تو تب معاہدہ کریں گے۔گویا مشرکین مکہ کو محمد بن عبد اللہ ہونے کی حیثیت میں آپ سے کوئی اختلاف نہیں تھا۔اختلاف تب شروع ہوا جب محمد بن عبداللہ نے محمد رسول اللہ ہونے کا اعلان صفا پہاڑی پر چڑھ کرکیا پھر ابو لہب چچا ہو کر بھی پتھر اٹھا کر انکار کرنے لگا، اس موقع پرقریش اور دوسرے قبائل آپ ﷺکو سچا اور صادق کہہ کر بھی جھٹلانے لگے،حضرت ابوبکرؓ،حضرت علیؓ ،حضرت خدیجہؓ اورحضرت زیدؓ پہلے پہل محمد بن عبداللہ کومحمد رسول اللہ ماننے اور تصدیق کرنے والوں میں شامل ہوکر’’ السابقون الاولون‘‘ کا مصداق بن گئے ،محمد رسول اللہﷺ نے رسول اللہ ہونے کا اعلان تو چالیس سال کی عمر مبارک میں کیا لیکن اللہ تعالی کے نزدیک آپ اس وقت بھی اللہ کے نبی اور رسول بن چکے تھے جب ابھی آدم علیہ السلام کا خمیر تیار ہو رہا تھا،گویا اللہ تعالی نے روحانی طور پر روح مصطفی ﷺ سب سے پہلے تخلیق کر کے اس کے سر پر رسالت کا تاج سجادیا تبھی تو کہا گیا
سب سے پہلے مشٍیت کے انوار سے نقش روئے محمدﷺ بنایا گیا 
پھر اسی نقش سے مانگ کر روشنی بزم کون ومکاں کو سجایا گیا
کتاب فطرت کے سر ورق پر جو نام احمد رقم نہ ہوتا یہ نقش ہستی ابھر نہ سکتی یہ وجود لوح وقلم نہ ہوتا
تمام نبیوں اور رسولوں سے محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت اور نبوت پرعہد میثاق کی صورت میں اقرارلے کر شان مصطفٰی ﷺ کی بلندی کا اظہار کیا گیا،تورات،زبور،انجیل اور دیگر مصاحف انبیاء میں اور کاہنوں،نجومیوں اور بادشاہوں کی خوابوں کی تعبیر میںآپ کی نبوت ،رسالت اور ختم نبوت کے چرچے کیے گئے۔پوری کائنات شجر وحجر ،حیوانات اور جمادات کو آپﷺ کے آنے اور رسول اللہ کے اعلان کا انتظار تھا،آخر جب آپﷺ نے محمد بن عبداللہ سے محمد رسول اللہ ہونے کا اعلان کیا تو اللہ تعالی نے معجزات کی صورت آپﷺ کی رسالت کی پہچان اتنی عام کردی کہ ہلتے اور متزلزل حرا اور احدپہاڑنے آپ کو رسول اللہ پہچا ن کر آپ کے ’’اسکن ‘‘(اے پہاڑ!رک جا،تھم جا) کہنے پر تھم جانا قبول کرلیا ،درخت جڑوں سمیت چلنے لگے ،ایک مرتبہ آپ ﷺ قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے کو ئی پردہ اور اوٹ کی جگہ نہ تھی تو آپ ﷺ ایک درخت کے پاس گئے اوراس کی ٹہنی پکڑ کر اس کو کہا اللہ کے حکم سے میرے ساتھ چل ،وہ آپ کے پیچھے چلنے لگا پھر دوسرے درخت کے پاس گئے اس کو بھی یہی کہا وہ بھی آپ کے پیچھے چلنے لگا جب دونوں اک جگہ پر اکٹھے ہوئے تو آپﷺ نے دونوں کو کہا آپس میں جڑ جاؤ وہ فوراآپس میں جڑ گئے،یہاں ہم تھوڑا رک کر غور کریں کہ پہاڑ رک گئے اور درخت چل پڑے محمد رسول اللہ کو پہچان کر،آج ہمارے سامنے کتنے فرامین رسولﷺ آتے ہیں اور ہم رکے بغیران فرامین کو فراموش کر کے اپنی مرضی کی زندگی گزارتے چلے جاتے ہیں ۔ دودرخت تو محمد رسول اللہ کو پہچان کر ان کے کہنے پر آپس میں جڑ گئے لیکن آج ہم اپنے نبی ﷺ کے فرمان پر آپس میں جڑنے کے لئے بالکل تیار نہیں ،ہم مسجد میں ایک صف میں کندھے سے کندھا ملا کر توکھڑے ہوتے ہیں لیکن ہمارے دل ایک دوسرے سے کوسوں دور ہو کر بھی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے لیے پلاننگ کر رہے ہوتے ہیں ۔ہم کیسے اپنی جھوٹی زبانوں کے ساتھ آپﷺ سے محبت کا دم بھرتے ہیں ہمارا کردار،اخلاق،زندگی ان سے مخالف سمت میں سفر کر رہی ہوتی ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’میں مکہ میں اس پتھر کو پہچانتا ہوجو مجھے سلام کرتا ہے‘‘ایسی حالت میں ہم سے وہ پتھر بھی اچھا ہے جو محمدرسول اللہ کو پہچان کر ان کو سلام کرتا ہے ،آج ہماری کتنی صبح اور شامیں ایسی ہیں جو آقا مدنی کریم ﷺ پر درود شریف پڑھنے سے خالی گزر جاتی ہیں،صبح وشام تو چھوڑو کتنے دن اور کتنے ہفتے ہم درود شریف پڑھے بغیر گزار دیتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ آج ابھی تک ہم نے محمد بن عبد اللہ کو تو پہچانا مگر محمد رسول اللہ کو اس طرح نہیں پہچاناجس طرح پہچاننا چاہیے تھا،اگر پہچان ہو جائے تو نماز کے وقت ،بستر،گرم لحاف اور دکان ،کاروبار میں چین نہ آئے جب تک نماز نہ پڑھ لے،اگر پہچان ہو جائے تو رسول اللہﷺ کے ہر ہر فرمان ،ہر ہر سنت پہ عمل کرنے کا ایسا جذبہ پیدا ہو جائے کہ اس جذبے پر اپنا سب کچھ قربان کرنا آسان ہو جائے،، محمد رسول اللہ ہونے کی پہچان مردہ گوہ اور کھجور کے خشک تنے کو بھی حاصل تھی کہ مردہ گوہ آپﷺ کے پکارنے پر لبیک کہتی ہوئی آپ کی رسالت کا اعلان کرنے لگی اور کھجور کا خشک تنا جس پر ٹیک لگا ک�آپﷺ خطبہ دیتے تھے وہ آپ کی جدائی مین بچے کی طرح بلک بلک کر رونے لگااور آپ کے الم نشرح والے سینے سے لگ کر خاموش ہو گیا لیکن آج ہم میں وہ جذبات نہیں جو ان کائنات کی چیزوں میں جذبات تھے،تبھی تو چاند محمد رسول اللہ کے انگلی کے اشارے پر کٹ گیا گویا زبان حال سے کہہ گیا کہ محمد رسول اللہ کے اشارے پر کٹ مرنے کا جذبہ سیکھنا ہے تو چاند سے سیکھو،ایسی مثالیں بے شمار ہیں لیکن صرف حکایات کے طور پر دل کو لبھانے کے لئے نہیں بلکہ عبرت حاصل کرنے کے لئے ،اگر عبرت حاصل ہو جائے تو ایک مثال بھی کافی ہے،لاکھوں ،کروڑوں ،اربوں ،کھربوں بلکہ ان گنت اور لا تعداد درودو سلام ہو اس آقاﷺ پر ،جو محمد بن عبداللہ ہو کر صادق اور امین کہلانے والے اور محمد رسول اللہ بن کر عرش معلی پہ جانے والے ہیں ۔۔۔

Subscribe to comments feed Comments (0 posted)

total: | displaying:

Post your comment

  • Bold
  • Italic
  • Underline
  • Quote

Please enter the code you see in the image:

Captcha
  • Email to a friend Email to a friend
  • Print version Print version
  • Plain text Plain text

Tagged as:

No tags for this article

Rate this article

0