صفحہ اول | کالم | دو ٹوک

دو ٹوک

Font size: Decrease font Enlarge font
دو ٹوک

قاضی عب القادر

حکمرانو ں کی غلطیاں دہائیوں تک پیچھا کرتے ہیں

کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ 

شہنشاہ ہند جلال الدین محمد اکبر ا ور ولی عہد شہزادہ سلیم کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے ، شہزادہ ایک کنیز ’’انار کلی ‘‘ پر فدا ہوگیا اور شادی کرنا چاہتا تھا ، جبکہ بادشاہ کو شاہی خون میں اطاعت اور فرمانبرداری کی آمیزش قبول نہیں تھی چنانچہ باپ اور بیٹے میں یہ اختلاف ناراضگی بنا اور یہ ناراضگی بالاخر جنگ کی شکل اختیار کر گئی اور دونوں با پ بیٹا لشکر لیکر میدان میں اترآئے۔ جلال الدین محمد اکبر ایک ان پڑھ بادشاہ تھا لیکن کیونکہ اس نے میدان جنگ میں آنکھ کھولی تھی اور وہ تیرہ سال کی عمر میں ہندوستان جیسی وسیع و عریض سلطنت کے تخت پر جا بیٹھا تھا چنانچہ وہ جنگ کرنا اور لڑنا جانتا تھا جبکہ شہزادے کے پاس اس وقت تک عشق اور فراق میں ڈوبی آہوں کے سوا کچھ نہیں تھا لہذا یہ لڑائی ایک جرنیل اور ایک سیاہ بخت عاشق کی جنگ ثابت ہوئی ۔ جرنیل ہمیشہ کی طرح جیت گیا ۔شکست کے بعد جب شہزادے کو ایک قید ی کی حیثیت سے گرفتار کرکے بادشاہ کے دربار میں پیش کیا گیا تو وہ اپنے ہاتھ باندھ کو بولا ’’ابا حضور ، ہمیں معاف کر دیجئے ہم سے چھوٹی سی غلطی ہوگئی ‘‘ اور وہ یہ لمحہ تھا جب اکبر اعظم نے وہ تاریخی فقرہ کہا تھا ، اس نے کہا تھا ’’نادان شہزادے تمہاری چھوٹی سی غلطی 21 ہزار لوگوں کی جان لے گئی ‘‘ اکبر اعظم رکا اور دوبارہ بولا ’’دنیا میں ہر شخص کی غلطی کی کوئی نہ کوئی تلافی ہوتی ہے لیکن بادشاہوں کی غلطیوں کا کوئی مداوا نہیں ہوتا ‘‘ شہنشاہ ہند جلال الدین اکبر 17اکتوبر1605 کو آگرہ میں فوت ہوگیا ، شہزاد سلیم جہانگیر کے لقب کیساتھ تخت پر جا بیٹھا اس نے حکومت کی اور وہ بھی فوت ہوگیا لیکن جہانگیر کی معافی اور اکبر کا یہ فقرہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے تاریخ کا حصہ بن گیا ۔

وطن عزیز میں بھی کچھ ایسا ہے! غلطیوں کا اعتراف تو بعض اوقات کر لیا جاتا ہے لیکن ان سے سیکھا پھر بھی کچھ نہیں جاتا ، 1971 میں ذرا سی غلطی نے پاکستان کو دولخت کر دیا ، جس کا خمیازہ آج بھی ہم بھگت رہے ہیں ، اسی طرح 2000کی دہائی میں عدلیہ کیساتھ مذاق ، لال مسجد ،اکبر بگٹی کا قتل ، ایمرجنسی لگانے اور دیگر ایشو پر غلطیوں کا اعتراف بھی کیا گیا ۔ 2008میں چودھری شجاعت اور مشاہد حسین سید کراچی میں ق لیگ کیلئے ووٹ مانگنے گئے تھے ۔پریس کانفرنس میں چودھری شجاعت حسین نے فرمایا تھا بلوچستان ، عدلیہ ، اور لال مسجد ہماری غلطیاں تھیں اور ہم اگلی حکومت میں ان غلطیوں کی تلافی کریں گے ، اس موقع پرسید مشاہد حسین نے بھی خطاب کیا تھا اور نواب اکبر بگٹی ، لال مسجد ، عدلیہ ، ایمرجنسی اور دیگر ایشوز پراپنی غلطیوں کا اعتراف کیا تھا ، خبریں چھپیں تاہم بعد میں انہوں نے اعترافات کی تردید کر دی۔ ان غلطیوں کا اصل محرک تو مشرف تھا جس نے آج تک کسی غلطی کا اعتراف بھی نہیں کیا ۔ 

یہ تینوں غلطیاں تھیں اور بحیثیت سیاسی لیڈر یقیناًوہ ان غلطیوں پر شرمندہ ہونگے ، لیکن ان غلطیوں کی وجہ سے آج بھی ملک خمیازہ بھگت رہا ہے۔ اسی طرح اسی دور میں نادان شہزادوں کی ذرا سی غلطی نے چینی اور اسٹاک چینج کی ہیرا پھیری سے درجن بھر لوگ تو ایک ہی رات میں ارب پتی بن گئے تھے لیکن دوسری جانب کروڑوں لوگ جھولیاں اٹھا اٹھا کر بددعائیں بھی دیتے رہے ۔ گیس ، آٹا ، چینی کیلئے لائنیں لگ گئیں تھیں ۔ اور لوگ ساری ساری رات گیس سٹیشنوں پر لائنوں میں لگے رہتے تھے ۔ بحران بڑھتے گئے اور ملک کی معیشت بگڑتی گئی ۔ یہ ذرا سی غلطیاں ہی تھیں جن کا خمیازہ عام آدمی اور ملک بھگتتا رہا ہے

اب ایک بار پھر وہی تاریخ دہرائی جارہی ہے ، ڈالر مہنگا ہو رہا تھا اور حکومت (وزیراعظم اور وزیرخزانہ )کہہ رہی تھی کہ ہمیں پتہ نہیں ، جس کے باعث ملک میں مہنگائی کی لہر اٹھی اور عام لوگ شدید متاثر ہورہے ہیں ، تجاوزات کیخلاف آپریشن میں چالیس ، چالیس سالوں سے گھروں میں مقیم لوگوں کو بے دخل کرکے انہیں بے گھر کیا جارہا ہے ، اور بعد میں کہا گیا کہ ہم نے کسی کے گھر کو گرانے کا حکم نہیں دیا ، جن کے گھر ٹوٹے وہ اس ذرا سی غلطی کو کبھی نہیں بھولا سکیں گے ،

کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ 

ہائے اس زودیشماں کا پشماں ہونا 

کبھی کہا جاتا ہے آئی ایم ایف کے پاس جارہے ہیں تو کبھی صاف انکار کر دیا جاتا ہے، کبھی کہا جاتا ہے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں تو کبھی میڈیا پر آکر وزیراعظم یہ کہتے ہیں کہ ہماری معیشت تباہ ہو رہی ہے ، لیکن سرمایہ دار آئیں یہاں سرمایہ کاری کے بہتر مواقع ہیں ، کیا ایسے سرمایہ دار آئیں گے ؟ جس ملک کا وزیراعظم خود رو رو کر کہ رہا ہو کہ پاکستان کی معاشی حالت ٹھیک نہیں ، وہاں کون سرمایہ لگائے گا ؟ 

 

موجودہ حکومت نے پالیسی بیان دینے کے مواقع پر بھی قوم کو انڈوں ، اور مرغیوں کا بھاشن دیا ‘‘ اس میں شک نہیں کہ لائیو سٹاک میں بہتری ہونی چاہیے یہ کام صوبائی حکومتوں کا ہے کہ وہ کسانوں کو اس جانب راغب کرے اور ملک کے وزیراعظم ایسے مواقع پر جب کہ پوری قوم ، سرمایہ داروں اور ، ملکی و بیرون ممالک کے سفیروں کی نظریں ان پر لگی ہوں اور وہ انڈوں اور مرغیوں سے ملکی معیشت کو سدھارنے کی بات کر رہا ہو۔ حکمرانوں کی ذرا سی غلطیاں کئی دہائیوں تک پیچھا کرتی ہیں ، اور اس کے نقصانات مضمرات بعض و اوقات ناقابل تلافی ہو جاتے ہیں ۔ ماضی میں اس کی مثالیں واضح ہے

 

Subscribe to comments feed Comments (0 posted)

total: | displaying:

Post your comment

  • Bold
  • Italic
  • Underline
  • Quote

Please enter the code you see in the image:

Captcha
  • Email to a friend Email to a friend
  • Print version Print version
  • Plain text Plain text

Tagged as:

No tags for this article

Rate this article

0