صفحہ اول | کالم | معلم محترم جناب پروفیسر اکبر خان نیازی

معلم محترم جناب پروفیسر اکبر خان نیازی

Font size: Decrease font Enlarge font

تحریر۔ ش ۔ م قاضی تلہ گنگ

معلم محترم جناب پروفیسر اکبر خان نیازی 

تحریر۔ ش ۔ م قاضی تلہ گنگ 

جماعت میں کسی موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے اچانک محترم استاد نے کوئی سوال اٹھایا جسکا جواب دینے سے ایک لڑکی ہچکچا رکہی تھی استاد صاحب نے لڑکی کی ہچکچاہٹ بھانپ لی اور نہایت شفقت سے سوال کیا کہ بیٹی اگر آپ کو جواب آتا ہے تو آپ ہچکچاہٹ کا شکار کیوں ہیں ۔

لڑکی نے جواب دیا۔ 

؂ افسوس بے شمار سخن ہائے گفتگو 

خوف خدائے خلق سے ناگفتہ رہ گئے

سر میں تمسخر اور رد کر دئیے جانے کے خوف سے خاموش ہوں۔ معلم کے چہرے پر ایک شفیق سی مسکراہٹ ابھری اور فرمایا ’’ 

تو بچا بچا کے نہ رھ اسے ترا آئینہ ہے وہ آئینہ

جو شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں

قارئین وہ معلم محترم جناب اکبر خان نیازی تھے اور وہ لڑکی راقمہ تھی جو کہ اس وقت نویں جماعت کی طلبہ تھی ۔ یہ میری سر نیازی صاحب سے پہلی ملاقات تھی۔ یہ تھے وہ عظیم معلم جو نا پختہ ذہنوں پر اپنے علم ، تجربے اور دانائی کی بنیاد پر ایسی مہر ثبت کرتے تھے کہ طلباء آنیوالے دنوں کے آلائش و مصائب کا مقابلہ پر اعتماد طریقے سے کر سکیں ۔

یونیورسٹی میں بیٹھے ہوئے اچانک سے جب میں نے سماجی رابطوں کی کی ویب سائٹ پر آپکے انتقال کی خبر پڑھی تو میرا دل خون کے آنسو رو دیا ۔

آپکے جانے کاغم تو اپنی جگہ تھا ہی مگر یہ احساس بھی جان لیوا تھا کہ یہ علاقہ ایک قیمتی انسان سے محروم ہوگیا ۔

آپکی اس علاقے کیلئے کی گئی علمی خدمات سے کون واقف نہیں ۔ 1971 میں جب آپکی تبدیلی میانوالی سے تلہ گنگ کالج میں کی گئی تب آپ نے تبادلہ رکوانے کی بہت کوشش کی مگر کچھ نہ بن پڑا تو بادل ناخواستہ اپنے گھر والوں سمیت تلہ گنگ تشریف لے آئے اور باقی ساری زندگی اس علاقے کے طلباء کی تعلیم و تربیت کیلئے صرف کردی واضح رہے کہ اس دور میں تلہ گنگ نہایت پسماندہ علاقہ تصور کیا جاتا تھا اور ہمیشہ کیلئے اس علاقہ میں مقیم ہوجانے کا فیصلہ اتنا سہل نہ تھا اس علاقے کے لوگوں کیساتھ آپکی انسیت کا یہ عالم تھا کہ جاتے ہوئے یہ وصیت کر گئے کہ مجھے اسی مٹی میں دفن کیا جائے ۔ آپ نے 74 سال کی عمر میں وفات پائی اور نہایت شفاف زندگی گزاری ، تلہ گنگ میں موجود کئی بیوروکریٹس ، افسران ،کاروباری شخصیات ، اساتذہ ، فن تعمیر کے ماہر ، وکلاء ، اور باقی شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے دور تعلیم میں آپکے زیر اثر رہے اور آپکے علم ، حکمت اور مدابرانہ سوچ سے فیض یاب ہوئے ۔

خوش قسمت ہوتے ہیں وہ افراد جنہیں اللہ تعالی تعلیم و تدریس کے شعبے سے منسلک کرکے نسلیں سنوارنے کا موقع دیتا ہے مگر بہت کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی معلم اپنی خدمات کی وجہ سے اتنا معروف ہو جائے ۔

آج سر نیازی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس بات پر ملال بھی آتا ہے کہ ہم اکثر لوگوں کی زندگیوں میں اس اظہار کو اپنے اندر دبائے رکھتے ہیں ۔ کہ ہمیں اپنے اساتذہ کو بتانا چاہیے کہ انکے دئیے ہوئے اسباق کی روشنی میں کیسے ہم شکستہ آئینوں کو لئے ہوئے اس نیک گمان کیساتھ زندگی گزار رہے ہیں کہ یہ آئینہ جتنا شکستہ ہے اتنا ہی آئینہ ساز کو عزیز ہے۔ اس آئینہ ساز کی محبت سے متعارف کرانے کیلئے آپکا بہت شکریہ ۔ مگر آپکی زندگی میں آپکی شخصیت پرلکھنے کیلئے قلم اٹھانے کی جسارت شاید میں کر بھی نہ پاتی ۔

ڈگری کالج کے باہرلوگوں کا ہجوم دیکھ کر مجھ سے کسی نے سوال کیا کہ یہاں کیا ہوا ہے اور کون آرہا ہے میں نے سنجیدگی سے کہا کہ کوئی آنہیں بلکہ ایک بڑا شخص یہاں سے جارہا ہے ان کو الوداع کہنے اور دعائے مغفرت کیلئے آج ہرشعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ یہاں جمع ہیں آنیوالے کو گرمی جوشی سے خوش آمدید کہتے ہوئے کئی بار دیکھا ہے مگر کسی جانیوالے کو ایسے رخصت ہوتے ہوئے شاذ ہی دیکھا ہے ایسے عظیم لوگ اسی شان سے جایا کرتے ہیں ۔

سر ! آپ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے اور آپ کے دئیے ہوئے فہم کی روشنی میں ہم زندگی کی تاریک راہوں کو جگمگا رہیں گے ۔

؂ موت کو سمجھے ہیں غافل اختتام زندگی 

ہے یہ شام زندگی صبحِ دوام زندگی

Subscribe to comments feed Comments (1 posted)

avatar
Muhammad Asif 24/01/2019 02:27:37
masha Allah
total: 1 | displaying: 1 - 1

Post your comment

  • Bold
  • Italic
  • Underline
  • Quote

Please enter the code you see in the image:

Captcha
  • Email to a friend Email to a friend
  • Print version Print version
  • Plain text Plain text

Tagged as:

No tags for this article

Rate this article

0