صفحہ اول | کالم | غم نہ داری بُزبخر

غم نہ داری بُزبخر

Font size: Decrease font Enlarge font
غم نہ داری بُزبخر

رفعت حیات ملک تلہ گنگ


زمانہ طا لبعلمی میں لاہور جیسے تعلیمی طتبع رکھنے والے شہر میں رہنا ایک نعمت سے کم نہیں۔ یہ سر زمین بین الاقوامی شہرت رکھنے والے قدیم تعلیمی ادارون کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ جن میں گورنمنت کا لج لاہور یونیورسٹی ‘یونیورسٹی لاء کالج لاہور‘ اور ینٹل کالج لاہور ‘ایف سی کالج لاہور‘دیال سنگھ کالج لاہور اور اسلامیہ کالج لاہور جیسے قومی ادارے شامل ہیں۔اس کے علاوہاعلیٰ معیار کے جدید تعلیمی ادارے بھی ان میں شامل ہیں ۔
راقم گورنمنٹ کالج لاہور میں فرسٹ ائیر کا طا لبعلم تھا ۔میرے ایک دوست قیصر منصور ملک کے والد صاحب جو ایک مقامی سرکاری ادارے میں ملازم تھے نے یونیورسٹی لاء کالج کی شام کی کلاسز میں داخلہ لے کر ایل ایل بی کا امتحان پاس کر لیا اور سرکاری نوکری کو خیرآباد کہہ دیا ۔ دوران بات چیت ایک دفعہ انہوں نے فرمایا کہ''Status of a lawer is the highest status in the world''لیکن ہم لوگوں کو اسکاادراک نہیں ۔ ہمارے قومی رہنما قائداعظم محمد علی جناھ بھی ایک وکیل تھے جن کی دیانت ‘راست گوئی‘اورقانونی مہارت کی ایک دنیا معترف ہے۔اسوقت تو Statusکی یہ بات ہماری سمجھ سے بالا تر تھی لیکن امتدادزمانہ کے ساتھ ساتھ بہت کچھ بدلا ‘اے کے بروہی اور جسٹس )ریٹائرڈ(اے ار کیانی جیسے لوگوں کی تحریریں پڑھنے کو ملیں تو پیشۂ قانون کی پیچیدگیوں کا علم ہوا اور ان لوگوں کی اہمیت کا بھی ادراک ہوا ۔دنیا میں تمام شعبۂ ہائے تعلیم کے میعار میں اضافہ ہوا اور نئے نئے ڈسپلن سامنے آئے مگر بد قسمتی سے ہمارے ملک میں اسی رفتار سے تنزلی ہوئی‘تعلیمی میعار گرتا گیا ‘ڈگریوں کی بھر مار ہوتی گئی‘مگر مہارت نا پید ہو گئی۔گنتی کے چند لوگوں کے علاوہ شعبۂ قانون دانی انحاط کا شکار ہوتا گیا۔نوبت بہ اینجارسید کہ سو میں سے اسی فیصد قانون دان اپنے پیشے سے انصاف نہ کرتے ہوئے پا ئے گئے ہیں ۔ اسی طرح ہمارے انصاف مہیا کرنے والے اداروں کا میعار ب گرا۔ پہلے کسی بھی ضلع میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ایک مقتدر کائی تھی جو بہر صورت انتظامی بدعنوانیوں کے آگے بند باندھے ہوئے تھی۔اگر کسی ضلع کا کوئی سیشن جج کسی انتظامی افسر کے خلاف سٹرکچر پاس کر دیتا تو اس ضلع میں اسکا رہنا نا ممکن ہو جاتا ۔اب عدلیہ کے فیصلوں پر عمل نہ کرنے کا منفی رجحان در آیاہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ادارے مضبوط ہونے کے بجائے کمزوری اور نقاہت کا شکار ہیں۔
وکلاء کی بھرماراورمہارت کی کمی نے شعبۂ قانون کونقصان پہنچایا ہے۔ بقول امجد جاوید امجد سلیمی آئی جی پولیس پنجاب جھوٹی ایف آئی آر سے جھوٹے استغاثہ جات تک پہنچتی ہے۔جھوٹے اور خود ساختہ گواہان معاملات کو اور گمبھیر بنا دیتے ہیں۔نتچتہً تاریخوں اور حاضریوں کے سوا ء کچھ برآمد نہیں ہوتا۔ظالم کا پلڑا بھاری ہی رہتا ہے۔مظلوم انصاف کی امید میں زندگی کا ایک قیمتی حصہ ضائع کر دیتا ہے اورپھر چل چلاوْ کا دور آجاتا ہے مگر مقدمہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔ 
زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد
مدعی اور مدعا الیہ کی ٹرف سے ایسی ایسی باتیں سننے میں آتی ہیں جنکا زکر نہ کرنا بہتر ہے جنہیں ان کہی کہانیوں کا نام دیا جا سکتا ہے۔جن قانون دانوں نے اس پیشہ کے میعار اور وقار کو گہنانے میں زیادہ حصہ ڈالا ہے ان میں معتدبہ تعداد محنت نہ کرنے والے وکلاء کی ہے۔جسطرح اب استاد نے بغیر سبق کی تیاری کیے تعلیم ک بیڑا اٹھایا ہوا ہے اسی طرح وکلاء حضرات کیس کی تیاری کیے بغیر تاریخوں پہ تاریخیں لینا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ چند محنتی وکلا ء کے علاوہ اکثریت کا چلن یہی ہے۔اکثر اوقات مقدمات کی بے نیازانہ پیروی کی وجہ سے موئکلان کو نا قابل تلافی نقصان ہوتا ہے اور وہ کسی سے فریاد بھی نہیں کر سکتے۔
اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے بعض اوقات دوران مقد مہ سائل مجبور ہو کر وکلاء تبدیل کر دیتے ہیں جسکی وجہ سے انکو مالی نقصان کے علاوء زہنی ازیت کا بھی شکار ہونا پڑتا ہے۔ سائلان کی رہنمائی کیلئے کوئی ایسا فورم موجود نہیں جو انکو وکلاء کی کو تائیوں سے آگاہ کرتا رہے۔اگر چند درددل رکھنے والے افراد اس نیک کام کا بیڑا اٹھا لیں اور ایک مشاورتی فورم کی بنیاد رکھ دیں تو سائلان کو وکلاء کے موقف کی درستی کا موقع مل سکتا ہے۔اور جو ہم جانتے ہیں وہ اور کوئی نہیں جانتا والے تصور میں بہتری پیدا ہوسکتی ہے۔
ایک دفعہ میرے ایک معزز وکیل نے جو میرے قریبی دوست بھی ہیں نے مجھے ہدایت کی کہ اپنے کیس کے متعلق کسی اور وکیل سے مشورہ نہ کرنا ۔یہ ایک بڑی عجیب ہدایت تھی جو انکی اپنی Credibilityکو مشکوک بناتی تھی۔بہر حال میں نے مشورہ کیا اورمجھے مجبوراً وکیل تبدیل کرنا پڑا۔اگر کوئی ایسا مشاورتی فورم موجود ہو تو سائلان اپنے معزز وکلاء کی بے نیازیوں سے متعلق اپنی ناکامی سے قبل آگاہ ہو سکتے ہیں کیونکہ مقدمات کا ابتدائی مر حلہ بہت اہم ہوتا ہے اور اپیل کی سطح پر سرف وہی معاملات زیر غور آسکتے ہیں جو ابتدائی مر حلہ پر ریکارڈ کا حصہ بن چکے ہوتے ہیں ۔
دیوانی مقدمہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کیلئے ایک ایسی مصروفیت ہے جسکا کوئی بدل نہیں زندگی کے بقیہ سال مقدمہ اور تواریخ بھگتانے گزر جاتے ہیں اور پھر اپنی تاریخ آجاتی ہے۔بقول جسٹس ایم آر کیانی عدالت وہ ہوتی ہے جہاں انصاف ملتا ہے مگر ہم ساری زندگی کچہریوں کے چکر لگاتے رہتے ہیں۔ 
رفعت حیات ملک
تلہ گنگ

Subscribe to comments feed Comments (0 posted)

total: | displaying:

Post your comment

  • Bold
  • Italic
  • Underline
  • Quote

Please enter the code you see in the image:

Captcha
  • Email to a friend Email to a friend
  • Print version Print version
  • Plain text Plain text

Tagged as:

No tags for this article

Rate this article

0