صفحہ اول | کالم | امیر احسان اللہ کی بیماری حکومتی و انتظامیہ کی بے حسی

امیر احسان اللہ کی بیماری حکومتی و انتظامیہ کی بے حسی

Font size: Decrease font Enlarge font
امیر احسان اللہ کی بیماری حکومتی و انتظامیہ کی بے حسی


تحریر
نذر حسین چودھری

تمام تر اختلافات کے باوجود یہ بات ببانگ دہل کہی جاسکتی ہے کہ سابق وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے جہاں ترقیاتی کاموں کی کڑی نگرانی کی وہیں کسی بھی وبائی مرض کے سامنے آتے ہی پوری حکومتی مشینری کو استعمال اور بہترین حکمت عملی اختیار کر کے اس مرض کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ۔ یہی وجہ تھی کہ کسی بھی علاقہ میں اگر کوئی وبائی مرض کا کیس سامنے آجاتا تو مقامی انتظامیہ کے ہاتھ پاوں پھول جاتے کہ کہیں بات وزیر اعلی تک نہ پہنچ جائے ۔ اور پھر پوری محنت اور لگن کے ساتھ کام میں مصروف ہو جاتے۔ یوں بیماری کو مزید پھیلنے سے ابتدا ہی میں روک دیا جاتا۔ آپ ن لیگ دور حکومت میں پھیلنے والے امراض ڈینگی کو ہی دیکھ لیں حالانکہ یہ بیماری شاید پہلی دفعہ پاکستان میں سنی گئی تھی ۔ لیکن شہباز شریف کی نگرانی میں اس بیماری کو لگام ایسے دی گئی کہ کئی ممالک اس حکمت عملی کو خراج تحسین پیش کرنے پر مجبور ہوئے ۔ شہباز شریف دور ہی میں سوائن فلو بھی سامنے آیا تھا ۔ جس پر ایک بہترین حکمت عملی سے قابو پالیا گیا تھا ۔ موجودہ حکومت کی جہاں کئی نالائقیاں سامنے آئی ہیں وہیں صحت کے حوالے سے بھی ان کی عدم دلچسپی دیکھنے کے قابل ہے ۔ ہمارے صحافی دوست چینجی سے تعلق رکھنے والے امیر احسان اللہ تھوڑی سی سیاست میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں ۔ حالیہ قومی الیکشن سے پہلے ق لیگ کے امیدواروں کی انتخابی کمپین میں اتنا بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کہ بعض دفعہ اس وجہ سے قریبی دوستوں سے الجھ جاتے ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے جب الیکشن کا عمل مکمل ہوا تو اگلے دن ان کی پرجوش کال آئی نذر بھائی ہم تین سو سے زائد گاڑیوں کا جلوس لیکر سے چینجی سے تلہ گنگ حافظ عمار یاسر کی رہائشگاہ کی جانب گامزن ہیں ۔ چوک ایر مارشل نور خان کے قریب آپ کسی کیمرا مین کو بھیجنا تاکہ میڈیا کےلئے کوریج ہو سکے ۔ تاہم کچھ دنوں بعد ہی جوش و ولولہ کچھ ماند پڑتا دیکھائی دیا ۔ وجہ پوچھی تو کہنے لگے ۔یار لگتا ہے وہی روایتی سیاست ہے کچھ تبدیلی نظر نہیں آنے والی ۔ پھر کچھ روز بعد جب انہوں نے اپنی فیس بک آئی ڈی پر ٹیلی فون کال اٹینڈ نہ ہونے کی شکایت کی تو ان کا جو حال کیا گیا وہ بہت سارے دوستوں کے علم میں ہے ۔ اب یہ ہمارا بھائی سوائن فلو بیماری کا شکار ہو گیا ۔ بیماری کے ابتدائی روز جب انہیں راولپنڈی کے اسلام آباد کے مختلف سرکاری ہسپتالوں میں لے جایا گیا تو کسی ہسپتال انتظامیہ نے انہیں دیکھنے تک کی زحمت گوارہ نہیں کی ۔ یوں انہیں مجبورا ایک پرائیویٹ ہسپتال منتقل کرنا پڑا جہاں ان سے لاکھوں روپے بٹور لئے گئے ۔ لیکن با امر مجبوری وہ ابھی وہیں ہیں ۔ جہاں اب ڈاکٹروں کے مطابق ان کی خطرناک حالت کے پیش نظر اب انہیں کہیں اور موو کرنا ممکن نہیں ہے ۔ وہی انتظامیہ جو شہباز دور میں ایسے مریضوں کو گھر سے اٹھا کر راولپنڈی اور اسلام آباد کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں لے جاتی تھی ۔ اس انتظامیہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ۔ ہمارے صوبائی وزیر جو امیر احسان اللہ کے چینجی میں کرائے گئے انتخابی جلسہ میں آنسو بہاتے رہے شاید ابھی تک ان کے محلات تک امیر احسان اللہ کی بیماری کی اطلاع نہیں پہنچی ۔ مجھے یقین ہے اگر انہیں پتہ ہوتا تو اب تک وہ کئی مرتبہ امیر احسان اللہ کی تیمارداری کرنے کے ساتھ ساتھ ان سرکاری ہسپتالوں کی انتظامیہ کے کان بھی کھینچ رہے ہوتے جنہوں نے امیر احسان اللہ کو طبی امداد دینے سے انکار کیا ۔ 
بہرحال سیاست ہے ہی بے رحم کھیل یہاں کوئی کسی کا نہیں ہوتا ۔ ہاں جس سے مفادات وابستہ ہوں ان کی چاہت میں زمین آسمان ایک ہو جاتا ہے ۔ وگرنہ تو کون میں کون
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمارے صحافی بھائی امیر احسان اللہ کو مکمل صحت کاملہ عطاء اور اب جو مقامی صحافی بھائی ان کےلئے کچھ کرنا چاہتے ہیں ان کی نیک کام میں برکت عطاء فرمائے آمین

اب بات ہو جائے ذرا اس بیماری سوائن فلو کی ۔ سوائن فلو یعنی ایک خطرناک زکام وائرس کی وبا کا آغاز کچھ عرصہ قبل میکسیکو سے ہوا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے دوسو سے زائد ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے سوائن فلو سے دنیا بھر میں11516افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی تھی۔ جبکہ اس وقت پاکستان میں 9افراد ہلاک ہوچکے تھے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اپریل 2009سے کے بعد سوائن فلو کے پھیلنے سے ہلاکتیں ساڑھے گیارہ ہزار سے زائد ہو گئی ہیں۔208ممالک اور دیگر علاقوں کے افراد اس وائرس کا شکار ہوئے تھے جن میں لیبارٹری سےH1N1وائرس کی تصدیق کی گئی تھی ۔ یہ وائرس بعد میں ایشیا کی طرف منتقل ہوا۔سوائن فلو وائرس سے امریکا میں 6670 یورپ میں2045مغربی بحرالکاہل کے ممالک میں1039 جنوب مغربی ایشیا میں990مشرق وسطی میں663اور افریقہ میں109افراد ہلاک ہوئے ۔پاکستان میں اس وائرس سے نو افراد ہلاک 'جب کہ 76افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے تھے۔ اب پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہزاروں افراد سوائن فلو کا شکارہو رہے ہیں عالمی ادارہ صحت کی سربراہ مارگریٹ چن نے کہا ہے کہ سوائن فلو وائرس دنیا میں اتنی تیزی سے پھیل رہا ہے کہ اب اسے روکنا ناممکن ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس مرحلے پر مرض پر قابو پانا ممکن نہیں رہا۔ دنیا بھر میں کوئی جگہ اس وائرس سے محفوظ نہیں مزید یہ کہ ادارے نے ہنگامی صورتحال میں مزید اقدامات کا اضافہ کردیا ہے۔یہاں یہ بھی یاد رہے کہ گذشتہ 41برس میں یہ پہلا موقع ہے جب ڈبلیو ایچ او نے کسی مرض کا بطور وبا اعلان کیا ۔
سوائن فلو ہے کیا؟
سوائن فلو کی موجودہ وباء ایک وائرسinfluenza A virus subtype H1N1کی وجہ سے پھیلتا ہے ۔ یہ سب ٹائپ فلو،جانورں اور انسانی فلو وائرس کے مختلف اجزا سے مرکب ہے۔ اس کی ابتدا کیسے ہوئی، اس کا اب تک پتہ نہیں چلایا جا سکا لیکن سب سے پہلے کب ہوئی یہ معلومات جین برونڈی کی کتاب فلو فائٹر کے مطالعہ سے معلوم ہوئیں جس کے مطابق سوائن وائرس کا سب سے پہلے انکشاف 1918 میں ہواجسے اس وقت سپینش فلو کا نام دیا گیااس فلو سے امریکہ میں پچاس ہزار سے زائد جبکہ دنیا بھر میں بیس ملین ہلاکتیں ہوئیں یہ 1957تک ہسپانوی آبادی میں موجود رہا ۔
سوائن فلو 'زکام سے مشابہہ متعدی مرض ہے مگر اس کا طریقہ کار مخفی ہے۔ ابھی تک یہی خیال کیا جا رہا ہے کہ کھانسنے ، چھینکنے اور متاثرہ شخص کو چھونے سے یہ مرض ایک انسان سے دوسرے میں منتقل ہوتا ہے۔خصوصا انسانی تنفس سے دوسرے انسان کو متاثر کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت WHOکے مطابق میکسیکو میں ہلاکتوں کا سبب بننے والا وائرس A/H1N1وائرس ہے۔ یہ وائرس انسان سے انسان کو منتقل ہوتا ہے اور انسانوں جانوروں اور پرندوں کے فلو وائرس کے اجتماع سے سامنے آتا ہے۔
علامات
طبی ماہرین کے مطابق سوائن فلو میں مبتلا ہونے کی اہم علامات میں اچانک 104درجے کا بخار شدیدزکام، کھانسی ،سردرد ،جوڑوں کا درداور بھوک کا ختم ہو جانا ہیں۔اگر بروقت علاج نہ ہوسکے اور مدافعتی نظام ناکارہ ہوجائے تو مریض نمونیا کا شکار ہو کر دم توڑ جاتا ہے۔چونکہ سوائن فلو کی بیماری واضح علامات ظاہر نہیں کرتی اور عام معمولی فلو کے مریض کی طرح کی ہی علامات سامنے آتی ہیںجس کی وجہ سے اس بیماری میں مبتلا انسانوں کی درست تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
خدشات
٭…طبی ماہرین کے مطابق یہ وائرس انسانوں میں آسانی کے ساتھ منتقل ہو جاتا ہے اور پھر یہ انسانوں میں تیزی سے پھیل کر وبائی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ ماہرین نے اسے HINIٹائپ فلو وائرس کا نام دیا ہے۔

Subscribe to comments feed Comments (1 posted)

avatar
Yeezy 350 V2 Reflective Replica 28/03/2019 23:54:04
If you’re a fan of coffee then you know this is the best way to kickstart the day. Besides you’re going to need that boost of energy to collect all of your birthday goodies.
total: 1 | displaying: 1 - 1

Post your comment

  • Bold
  • Italic
  • Underline
  • Quote

Please enter the code you see in the image:

Captcha
  • Email to a friend Email to a friend
  • Print version Print version
  • Plain text Plain text

Tagged as:

No tags for this article

Rate this article

0