صفحہ اول | کالم | وے بلھہیا! اساں مرنا ناہیں گور پیا کوئی ہور

وے بلھہیا! اساں مرنا ناہیں گور پیا کوئی ہور

Font size: Decrease font Enlarge font
وے بلھہیا! اساں مرنا ناہیں گور پیا کوئی ہور

نمرہ ملک

وے بلھہیا! اساں مرنا ناہیں
گور پیا کوئی ہور
نمرہ ملک
یہ اک چمکیلا دن تھا جب میری دعوت پہ فخر ڈھرنال عالمی شہرت یافتہ مصور منیر ڈھرنال کی تلہ گنگ پریس فورم آفس آمد ہوئی،مرے مشفق بزرگ مصور منیر کی آمد پہ مجھے بہت خوشی تھی ۔میں اپنے انٹرنیشنل میگزین ’’روابط‘‘ کے لیے ان کا انٹرویو کرنا چاہتی تھی۔چیف ایڈیٹر ریاض انجم کہنے لگے’’ابھی ان کا انٹرویو نہیں لینا!میرے اک دوست چینجی سے آرہے ہیں ،’’امیر احسان اللہ چینجی‘‘۔ان کے ساتھ آپ نے شروع کرنا ہے۔
یہ ایک یادگار انٹرویو تھا جس میں احسان چینجی نے بہت خوبصورت سوالات کئیے جن کے فخر ڈھرنال نے مخصوص لہجے میں جواب دئیے۔پھر یہ سلسلہ چل نکلا،جب کہیں جانا ہوتا،کسی کا انٹرویو،کسی سے میٹنگ امیر احسان اللہ چینجی عرف سانی بھائی ہمارے ساتھ لازمی ہوتے۔ان کے بنا ٹیم ادھوری لگتی۔میں نے ان کے ساتھ یادگار ترین انٹرویوز کیے۔
بالخصوص میرے ساتھ ان کا رویہ سگے بھائیوں جیسا ہوتا تھا،وہی لڑائیاں،وہی محبتیں اور روٹھنا جیسے بہن بھائی کرتے ہیں۔مجھے اعتراف ہے،میں ان سے کبھی خفا نہیں رہ سکی کیوں کہ میں جب اچھی طرح لڑ بھڑ لیتی تو مخصوص مسکراہٹ اور نرمی سے سن لینے کے بعد کہتے’’ہن تساں نا غصہ ختم ہو گیا نا،ہن تسی انج کرو کہ ٹھنڈا پانی پیو تے میرے واسطے چائے منگواؤ‘‘
کبھی کہتے’’او میڈم جی!بھراواں نال اتنا غصہ؟
کبھی چھیڑتے’ویسے فوٹو بہت اچھے اچھے آئیں گے،زرا اور بھی خوفناک صورت بنالیں‘‘
اور کبھی کمٹمٹ کر کے بروقت نہ پہنچتے تو آفس آتے ہی کہتے’’بھئی پہلے کچھ مہمانوں کی خاطر تواضع کر لیں پھر بے شک لڑ لیں،اور خبردار بڑے بھائی کے سامنے اونچا بولی تو‘‘ساتھ ہی میری شکل دیکھ کے زوردار قہقہہ لگاتے اور سر پہ ہاتھ پھیر کے کہتے ’’چلو! ہن نی معافی۔۔لاسٹ ٹائم۔۔۔‘‘
ہمارے معروف کالم نگار عمران سرور جبی ،امیر احسان اللہ چینجی اورمیں یعنی نمرہ ملک۔۔یہ تکون مشہور ہوتی گئی۔لڑتے بھڑتے،عموما میرے عمران سرور سے شدید قسم کے اختلافات ہوتے ہیں،جو بقول عمران سرور ’’آپکی کمزور سمجھ دانی میں یہ بڑے ایشو نہیں ٹھہر سکتے‘‘(ان کا تجزیہ اکثردرست ہوتا اور میری بحث واقعی میں غلط ثابت ہوجاتی۔۔کبھی کبھی )
ایسے کسی موقع پہ جب عمران سرور کا بی پی ہائی ہوتا تو فوراً احسان چینجی کہتے’’بھائی جی !میرے سامنے میری بہن کو کوئی کچھ نہ کہے،،
میں فورا لقمہ دیتی’’نئیں تو ادھر خون کی ندیاں بہہ جائیں گی۔۔ہاں جی!‘‘
عمران سرور ہنس کے کہتے ’’یعنی آپ کے جانے کے بعد کچھ بھی کہنے کی اجازت ہے سانی بھائی،،اس پہ زوردار قہقہہ لگتا اور بس۔۔سب بھول بھال کے کسی نئی بحث میں الجھ جاتے
کوئی ہاٹ ٹاپک،نیا ایشو کسی نئی جگہ پہ کھانے پینے کی باتیں،ہمارے ساتھ بزنس میں شراکت کی باتیں،نت نئے منصوبوں کی ادھوری تکمیل ہوتی رہتی۔
پھر کاتب تقدیر نے عجیب رنگ بدلا۔عجیب صورت حال پیش آگئی۔ہمارے سب کے سانی بھائی کو اچانک فلو ہوا،ایک ہی دن میں خون کی الٹی ہوئی ۔تلہ گنگ والوں نے پنڈی ریفر کیا۔قسمت کی ستم ظریفی کہ کسی ہاسپٹل نے ایڈمٹ نہ کیا۔وجہ ان کا سانس کا شدید مسئلہ تھا۔بالاخر ایک بریگیڈئیر صاحب نے سفارش کی تو پیس(pace) میں ایڈمٹ کر لیا گیا۔ان کی بیماری کا پتہ چلتے ہی صحافتی برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔امیر احسان اللہ کو آکسیجن لگی تھی مگروہ اپنے ہاتھوں کی انگلیوں اور کسی وقت پنسل سے چار نام لکھ کر بلاتے۔عمران سرور،نمرہ ملک یا پھر حنان اور حریم جو کہ ان کے بچے ہیں۔جیسے ہی پتہ چلا ،میں اور عمران لبیک کہتے ہاسپٹل پہنچ گئےْ ڈاکٹرز سے میٹنگز ہوئیں اور دل فگار انکشاف ہوا کہ ہمارا سانی بھائی ’’سوائن فلو‘‘ جیسے موذی مرض کے شکنجے میں ہے۔اس سے اگلے کچھ دن بے تحاشا تکلیف دہ تھے کیونکہ اس مرض میں سب سے پہلے سانس کی نالی ہی متاثر ہوتی ہے۔جیسے تیزاب کپڑوں میں سوراخ کرتا جاتا ہے بالکل ایسے یہ مرض انسان کا اندر ختم کر دیتا ہے۔ڈاکٹرز سے دن میں کئی بار میٹنگز ہوتیں۔ہر بار وہ نئی امید دلاتے اور نئے طریقے سے آس تھما دیتے ۔امیر احسان اللہ کو وینٹی لیٹر پہ منتقل کیا گیا ۔وہ ہوش میں تھے مگر وہ ہاسپٹل کے اخراجات اور فیملی کی طرف سے بہت ٹینشن لیتے تھے۔جس کی وجہ سے ڈاکٹرز کو انہیں بے ہوش کرنا پڑا۔شدید آبزرویشن میں رکھا جا رہا تھا۔ڈاکٹرز کی بھاگ دوڑ جاری رہتی،بہت سی احتیاطی تدابیریں کی جاتیں تب جا کے اک نظر دیکھنے کا مرحلہ طے ہوتا،دوسری طرف ان کے علاج کے سلسلے میں کئی رکاوٹیں بھی تھیں جن میں سر فہرست فنانشلی مسائل تھے۔ہم اپنے سانی بھائی کی زندگی بچانے کے لیے کچھ بھی کرنے اور کسی بھی حد سے گزرنے کے لیے تیار تھے۔
تیرہ جنوری احسان اللہ کا جنم دن تھاجب ہم اپنے طور پہ نبرد آزما تھے،ہر طرف دعاؤں کا سلسلہ بھی جاری تھا۔اس مشکل ترین وقت میں ایم این اے چوہدری سالک حسین کے علم میں آتے ہی انہوں نے پوری پوری مدد کی یقین دہانی کروائی۔ہم نے جو طریقہ کار اپنایا اس میں انہوں نے بھرپور ساتھ دیا۔یہ مشکل ترین وقت تھا کہ ہماری خواہش تھی کہ علاج رکے نہیں کیونکہ وینٹی لیٹر کے چودہ دن بہت اہم تھے جب کہ ساتواں دن شروع ہو چکا تھا۔احباب کو علم ہے کہ ہاسپٹل والے بل پہلے لیتے ہیں اور ڈیڈ باڈی بھی بعد میں دیتے ہیں ۔لمحے زندگی اور موت کی کشمکش میں ڈولتے رہے۔اس دوران امیر احسان اللہ کی فیملی شدید ڈپریشن کا شکار ہو گئی ۔گھر کے جوان مرد کا اس طرح آبزرویشن میں غیر یقینی صورتحال میں رہنا بالخصوص مسز احسان اور ان کے بچوں کے لیے بہت بڑی آزمائش تھی۔ امیر احسان اللہ کے والد فون کرتے اور مجھ سے کہتے کہ میرا دل بجھ گیا ہے اور مجھے پتہ ہے کہ میں نے یہ صدمہ دیکھنا ہے۔سانی بھائی کی بیٹی ڈھائی سالہ حریم جو بہت منتوں مرادوں کے بعد پیدا ہوئی ہے،اپنے بابا سے ایک منٹ جدا نہ ہوتی تھی ،ان کے پاس سوتی تھی۔وہ بابا سے دوری کی وجہ سے بیمار ہوگئی۔احسان اللہ ثانی بھائی کی بہنیں روزے رکھ رہی تھیں اور والدہ کا سر مسلسل سجدے میں تھا۔گھر میں مسلسل اک دکھ کی فضا تھی۔ان حالات میں عمران سرور اور میرا مشورہ تھا کہ گھر والوں کو تسلی دے دی جائے کہ سانی بھائی بہت بہتر ہیں جب کہ ہاسپٹل میں ہمارے ساتھ ہی موجود ان کے بھائی عبید اللہ کو بھی تلقین کر دی کہ گھر میں آل اوکے کی ہی رپورٹ دیں۔ا سکے بعد میں اورعمران سرور،رات کے گیارہ بجے اسلام آباد سے چینجی گئے۔معروف صحافی اکرم نور چکڑالوی اور محمد وحیدبھی ہمارے ساتھ تھے۔ہم نے گھر والوں کو بہت سی جھوٹی تسلیاں دیں کہ جلد ہمارے سانی بھائی آپ سب کے درمیان ہونگے،ہماری بھابھی جنہیں میں لاڈ سے اکثر بھرجائی کہتی ہوں ،سے میں نے کہا کہ آپ گڑ منگوا کے رکھیے گا جیسے ہی سانی بھائی خیریت سے گھر آئیں گے ہم بہن بھائی مل کر گڑ والا حلوہ بنائیں گے۔اس طرح ان کی فیملی کو دلی تسلی ہو گئی کہ احسان اب بہتر ہیں۔اس طرف سے کچھ تسلی ملنے کے بعد ہم پوری دلجمعی سے دوبارہ سانی بھائی کی طرف متوجہ ہو گئے۔سانی بھائی کے پھیپھڑے،گردے اور اب جگر بھی بری طرح متاثر ہورہا تھا۔ڈاکٹرز نے ففٹی ففٹی چانس کا بتا دیا کہ اپنی سی کوشش کر دیکھئے۔ہم نے ان کی رپورٹس اٹھائیں اور کوئی بڑا ہاسپٹل نہ چھوڑا۔اس دوران سانی بھائی کے ڈائیلاسز ہوچکے تھے۔ہم جہاں بھی زرا سی امید پاتے ،پہنچ جاتے مگر سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ احسان اللہ کو وینٹی لیٹر سے ہٹایا نہیں جا سکتا تھا۔سترہ جنوری کی رات عجیب رات تھی کہ جس نے ہزاروں بھید اپنے اندر چھپا رکھے تھے،راولپنڈی ،اسلام آباد کی سڑکیں گواہ ہیں کہ کیسے ساری رپورٹس پکڑے ادھر سے ادھر بھاگتے سائے موت کو شکست دینے کی کوشش کرتے رہے اور پھر اٹھارہ جنوری کا سورج اپنے ساتھ اک بری خبر لے کے طلوع ہوا۔ ساری تپسیا بے کار گئی۔حریم کے بابا،ہم سب کے بہت پیارے بھائی،دوست، اور مخلص ساتھی،پریس فورم میڈیا گروپ کے سرگرم رکن،بیوروچیف چینجی،نمائیندہ کوہ نور ٹی وی،نمائیندہ روابط انٹرنیشنل امیر احسان اللہ چینجی عرف سانی بھائی انتقال کر گئے۔
وینٹی لیٹر پہ بیس دن تک موت اور زندگی کی اس جنگ میں زندگی ہار گئی تھی،موت جیت گئی،موت ہی کیوں جیت جاتی ہے!موت کو موت کیوں نہ آگئی ؟آہ ۔۔۔۔۔!امیر احسان اللہ!
امیر احسان اللہ چینجی،میرے ہم سب کے سانی بھائی ہم سب کو روتا چھوڑ کر چلے گئے۔
میرے سانی بھائی چلے گئے،مجھے بہت بڑی زمہ داری تھما گئے کہ میرے حنی اور حریم کا خیال رکھنا۔عبد الحنا ن اور حریم فاطمہ دو ہی بچے ہیں جو منتوں مرادوں کے بعد شادی کے بہت عرصے بعد پیدا ہوئے۔
ہر جاننے والے نے سانی بھائی کے درد کو اپنا درد سمجھا۔تمام صحافتی برادری خاص طور پہ لیاقت اعوان،اکرم نور چکڑالوی،محمد وحید،چوہدری غلام ربانی اینڈ برادران اور ڈاکٹر ارشد ملک کی دل کی گہرائیوں سے مشکور ہوں جنہوں نے اس مشکل گھڑی میں اپنے مکمل ساتھ کا احساس دلایا۔ڈی ڈی ایچ او ڈاکٹر آفتاب حیات اور ڈاکٹر عبد الرزاق مسلسل رابطے میں رہے ۔دونوں ڈاکٹر ز صاحبان نے اپنی زمہ داری کو بہت احسن طریقے سے نبھاہتے ہوئے چینجی میں سوائن فلو کے پہلے مریض کے تشخیص ہوتے ہی ویکسی نیشن کروائی،احتیاطی تدابیر اپنائیں اور اس حوالے سے بھرپور کردار ادا کیا۔ڈاکٹر آفتاب حیات اس موزی وائرس سے بچاؤ کے لیے دن رات سفر میں رہے اور ارباب اختیار سے اس حوالے سے رابطے میں رہے۔ڈاکٹر عبدالرزاق محبت بھرے انسان ہیں جنہوں نے زاتی دلچسپی لی اور میرے اور عمران سرور کیساتھ رابطہ رکھا۔
چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر ارشد ملک کو دیر سے ان کی بیماری کا علم ہوا مگر پتہ چلتے ہی پیس میں ڈاکٹرز سے خود ڈسکس کرنے بھی پہنچ گئے مگر اس وقت تک سانی بھائی تمام تر تکالیف سے آزاد ہو چکے تھے۔میں نے ڈاکٹر ارشد ملک کو بچوں کی طرح روتے دیکھا۔عمران سرورمسلسل سینہ مسل رہے تھے اور مجھے لگ رہا تھا سب کچھ رک گیا ہے،اک بے یقینی کی سی کیفیت تھی کہ اک کڑیل جوان کیسے آناً فاناً موت کے منہ میں چلا گیا،دل پھٹ رہا تھا۔عمران سرور،امیر عبیداللہ اور ان کے چچا کی ہمت کو سلام ہے جنہوں نے پورے حوصلے سے احسان اللہ بھائی کی میت وصول کی اور ہاسپٹل میں ہی غسل کا اہتمام کیا۔
کون تھا یہ سانی؟کیسا تھا یہ سانی؟کیسی شخصیت تھی اس بندے کی؟جو بیس دن تک چکوال کی ساری صحافتی برادری کے لبوں پہ دعا بن کے ٹھہر گیا تھا!جس کیلیے ڈاکٹرز،سماجی و سیاسی شخصیات ،کاروباری
لوگ سب ہاتھ اٹھانے پہ مجبور ہوگئے!
جس کی موت نے ڈاکٹرز کو بھی اشکبار کر دیا!
جس کے لیے سارا تلہ گنگ رو رہا ہے!اس کا جنازہ چینجی کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔
جس کی محبتیں سب کے لیے سانجھی تھیں،جس کے لیے اپنے پرائے ایک تھے،عزیز اور پیارے۔۔
جو سب کے شکوے ہنس کے سنتا تھا،جسے کبھی غصہ نہیں آتا تھا شائد!
جو’’پریس فورم‘‘ آفس تلہ گنگ میں بیتی ساری یادیں اک کتاب بنا گیا ہے۔
ایسا بے باک صحافی،بے مثال بھائی اور بیٹا ،باوفا شوہر اور مشفق باپ ۔۔۔کسی انسان میں اتنی خوبیاں کم ہی ہوتی ہیں۔جیسے انہیں پتہ تھا کہ وقت کم ہے۔انہوں نے محلے کے سرکردہ لوگوں سے مل کر بہت سی بے ہودہ رسموں کو ختم کرنے کی دعا خیر کروائی۔اور یہ تمام رسمیں پہلی بار احسان اللہ چینجی کی وفات پہ ہی مکمل ختم ہو کر سامنے آئیں۔کسی کا نقصان ہوتا تو سانی بھائی خود چندہ تک کر کے اس کا نقصان پورا کر کے دم لیتے۔کسی بھی خبر کو ان سے بہتر کوئی نہیں بنا سکتا تھا۔وہ بہت اچھے رپورٹر تھے۔بہت اچھے انسان تھے۔ان کی وفات پہ ان کے والد امیر امان اللہ کا حوصلہ دیکھ کر رشک آیا۔اللہ کریم کی رضا میں راضی ہو کر بار بار الحمدللہ کہنا۔۔اللہ اکبر!ان کے بھائی اور بہنیں چیخ چیخ کر رو رہے تھے ۔معصوم حریم کی جگر پاش چیخیں پتھروں کو بھی رلاتی ہیں جس کی ایک ہی ضد ہے کہ مجھے بابا کے پاس سونا ہے ۔مجھے پتہ ہے وہ پھولوں والی چارپائی پہ سو رہے ہیں۔وہ فون اٹھاتی ،خود ہی باتیں کرتی اور ماما سے کہتی ہے کہ بابا آرہے ہیں۔چھوٹا سا کلاس ہفتم کا طالب علم عبد الحنان کا تدبر اور حوصلہ دیکھ کر جگر پاش پاش ہوتا ہے۔میں نے اتنی چھوٹی عمر میں کسی بچے کو ’’اتنا بڑا ‘‘ نہیں دیکھا۔اللہ کریم ان کے گھر والوں کو صبر جمیل عطا کرے۔آمین
سوچتی ہوں اب ہم سرگودھا روڈ کی سڑکوں پہ کس کی خاطر جائیں گے؟کس سے لڑیں گے اور کسے آرڈر دیں گے کہ سانی بھائی ہم آرہے ہیں ،آجائیے مل کر کھانا کھاتے ہیں ۔کون ہماری بری بھلی سن کے بھی خاموش رہے گا اور پھر ہنس کے ٹال بھی دے گا!ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ ہمارے پیارے سانی بھائی کے لیے اول آخر درود شریف پڑھ کے اک بار سورہ فاتحہ اور تین بار سورہ اخلاص پڑھ کے ان کے درجات کی بلندی اور مغفرت کی دعا کر دیجیے۔
ٹر گئے نے دلدار دلاں دے وطنوں چک مہاراں 
اجڑی بستی نظر آوے جد وں کنڈ دتی چا یاراں

Subscribe to comments feed Comments (1 posted)

avatar
Muhammad Asif 18/02/2019 03:19:25
Allah pak Ehsan sahib ki akhrat ki manazil asan farmaen r ap ko ajar e azeem atta farmaen
total: 1 | displaying: 1 - 1

Post your comment

  • Bold
  • Italic
  • Underline
  • Quote

Please enter the code you see in the image:

Captcha
  • Email to a friend Email to a friend
  • Print version Print version
  • Plain text Plain text

Tagged as:

No tags for this article

Rate this article

0