صفحہ اول | کالم | ق لیگ کے درپردہ ن لیگ سے رابطوں کی بازگشت

ق لیگ کے درپردہ ن لیگ سے رابطوں کی بازگشت

Font size: Decrease font Enlarge font
ق لیگ کے درپردہ ن لیگ سے رابطوں کی بازگشت

تلہ گنگ پریس کلب اور الوجود کا تعزیتی ریفرنس

 

ق لیگ کے درپردہ ن لیگ سے رابطوں کی بازگشت
ضلع و تحصیل سطح پر مختلف کمیٹیوں کی تشکیل -ق لیگ کو کارنر
تلہ گنگ پریس کلب اور الوجود کا تعزیتی ریفرنس
قارئین محتر م ;پی ٹی آئی حکومت کیساتھ ق لیگ کا اتحاد چونکہ غیر فطری تھا لہذا 4/5ماہ بعد کے قلیل عرصہ میں ہی اس میں دراڑیں پڑنا شروع ہوگئی ۔حافظ عمار یاسر کا استیفیٰ اسی سلسلہ کی کڑی ہے آغا علی کامل نے تو میڈیا پر برملا بتا بھی دیا کہ ن لیگ سے اتحاد کا آپشن موجود ہے۔ق لیگ نے ہمیشہ اپنے زاتی مفاد کی سیاست کی۔ہر کوئی نظریاتی یا اصولی سیاست کے امین نہیں بلکہ زاتی کاروبار معاصلات کے تحفظ کیلئے ایک پریشر گروپ ہے جسکا نام ق لیگ ہے۔پیپلز پارٹی کے دور میں ڈپٹی پرائم منسٹر رہئے اور اپنے مفادات کا تحفظ کیا۔اب سپیکر شپ اور وزارتوں کیساتھ پی ٹی آئی کی بالادستی قبول کی۔در پردہ ن لیگ سے رابطہ کرلیا تا کہ اپنا وزن بڑھایا جاسکے اور پی ٹی آئی مجبور ہو جائے پنجاب کی وزارت اعلیٰ دینے کیلئے۔عمران خان پردباوُ بڑھ رہا ہے۔آصف علی زرداری نے بھی وفاقی اور پنجاب حکومت کو مزید 6ماہ کی مہلت دے دی ہے۔پیپلز پارٹی اور ن لیگ قریب قریب ہو رہئے ہیں ۔اگر حکومت مخالف تمام قوتیں متحد ہو گئی تو حکمرانوں کیلئے مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ضلع چکوال عجیب و غریب صورتحال سے گزر رہا ہے۔اپوزیشن یعنی حکو مت مخالف قوتیں مکمل خاموش ہیں اور خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہئے ہیں ۔جبکہ حکمرانون کی صورتحال بھی ان سے ملتی جلتی ہے۔چکوال میں پی ٹی آئی کے ممبر قومی اسمبلی سردار ذوالفقار دلہہ اور چکوال سے ہی پی ٹی آئی کے صوبائی وزیر راجہ یاسر ھمایوں سرفراز ، ایم این اے فوزیہ بہرام ،ملک شائد اقبال ایڈوکیٹ، ناصر بھٹی، یاسر پتوالی ، حکیم نثار، کر نل سلطان سرخرو اعوان ،پیر نثار قاسم جوجی،سردار آفتاب اکبر ہمارے حلقہ پی پی 23کیجانب سے ضلع چکوال میں نمایاں سرگرمیاں نہ ہیں۔
اگر چہ حکیم نثار اور یاسر پتوالی پی ٹی آئی کے ورکرز کی حیثیت سے سرگرداں ضرورہیں ۔مگر اس کے باوجود حکومت کے بیانیہ کو جس موثر انداز سے عوام میں پیش کرنا چاہیئے اس میں ابھی تک پوری پی ٹی آئی کی ضلعی قیادت ناکام ہے۔ق لیگ کی چونکہ ترجیحات کچھ اور ہیں لہذا حکومت کے بیانیہ کو تقویت دینا انکے ایجنڈا میں ہی نہیں دوسری جانب حکمران مخالف بڑی جماعت ن لیگ بھی ابھی تک عدت کی مدت پوری کر رہی ہے اور حالت سوگ میں ہے۔کوئی قد آور شخصیت متحرک نہیں ۔چند نوجوان سوشل میڈیا پر اپنا کتھارسیس میں مصروف ہیں۔چونکہ مسلم لیگ ن کے دور میں مزے لوٹنے والے ایم این اے سردار ممتاز ٹمن پہلے ہی ق لیگ کے قافلے کیساتھ اور ایم پی اے سردار ذوالفقار دلہہ پی ٹی آئی کے قافلے کیساتھ شامل ہوگئے تھے اب سابق ایم پی اے ملک شہریار اعوان ہی رہ جاتے ہیں ۔بزرگ سیاستدان ملک سلیم اقبال پیرانہ سالی میں ہیں اور کچھ دنوں سے علیل بھی ہیں جنکی وجہ سے سیاسی سرگرمیاں مانند پڑی ہوئی ہیں ۔سردار غلام عباس اور ملک سلیم اقبال دونو ں کی علالت نے ضلع چکوال کی سیاسی سرگرمیوں کو مانند کردیا ہے۔کیونکہ دونوں متحرک شخصیات ہیں اور عوام الناس کے اندر اپنا گہرا اثر رکھتی ہیں ۔حافظ عمار یاسر نے بڑی تیزی کیساتھ عوامی سیاست کا آغاز کیا تھا مگر وزارت کا منصب ملتے ہی وہ بھی بڑے اشرفیہ کے قبیلہ کا حصہ بن گئے اور عوامی سیاست کو خیر آباد کہہ دیا۔لہذا عوام الناس کی بڑی تعداد اب ان سے ناخوش ہے۔ اسی طرح ایم پی اے سردار آفتاب اکبر بھی حلقہ پی پی 23سے منتخب ہونے کے بعد حلقہ کی عوام سے دور ہو گئے ہیں جسکے اثرات انکی شخصیت پر بُرے پر رہئے ہیں۔ ضلعی و تحصیل سطح پر ورکنگ کمیٹٰوں کی تشکیل کا آغاز ہو چکا ہے ۔معلوم ہوا ہے کہ حکومت پنجاب اپنے ناراض کارکنوں کو رام کرنے کیلئے انہیں با اختیار بنایا جائے گا۔پی ٹی آئی کے کارکنوں کو با اختیار کرنے کا مطلب ق لیگ کو کارنر کرنا ہے۔کیونکہ ضلع چکوال سیاست میں ان کا عمل دخل بہت زیادہ ہو چکا تھا۔اور پی ٹی آئی کو جان بوجھ کر کارنر کیا جارہا تھا۔جس پر کارکنوں نے احتجاج بھی کیا تھا۔
قارئین ;گزشتہ جمعہ 25جنوری 2019 ؁کو تلہ گنگ پریس کلب میں مقامی صحافیوں انکے لواحقین اور کالم نگار ممتاز قانون دان قاضی عاشق علی ایڈوکیٹ کی وفات پر قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا اور بعد ازاں تعزیتی ریفرنس کا اہتمام کیا گیا ۔جس میں مر حومین کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔گزشتہ دنوں ایک اجلاس میں راقم نے ہی پریس کلب کے اجلاس میں یہ قراداد منظور کروائی تھی۔ کہ کسی بھی صحافی کی ڈیتھ پر پریس کلب قرآن خوانی اور تعزیتی ریفرنس منعقد کرے گا۔چنانچہ سال 2018میں امیر احسان اللہ چینجی،پیر منظور حسین،معروف قانون دان اور کالم نویس قاضی عاشق علی ایڈوکیٹ کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی کی گی۔اور بعد ازاں تعزیتی ریفرنس میں انکی زندگی کے مختلف پہلوں کو اُجاگر کیا گیا۔
لاوہ میں منعقد تعزیتی ریفرنس کے موقع پر یہ آشکار ہوا کہ امیر احسان اللہ چینجی کے علاج معالجہ کے موقع پر صحافی بھائیوں نے انکے لیے کام کیا اُن میں وحید احمد ،نور محمد اکرم چکرالوی ،نمرہ ملک کے علاوہ عمران سرور جبی نے دن رات مرحوم کی صحت یابی کیلئے فنڈز ریزنگ کیلئے کام کیا مگر کسی مقام پر اپنا نام آشکار نہیں کیا۔ان کا یہ کردار قابل تحسین ہے۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر خصوصی کرم فرمائے جو بغیرنمود و نمائش اور پبلسٹی کے انسانیت کی خدمت کیلئے کوشاں رہتے ہیں ۔بلا شبہ ان لوگوں میں ریاض انجم ،راجہ برہان غنی،شفیق ملک ،عمران سرور جبی ،نمرہ ملک،خرم شہزاد، یٰسین چودھری،ریاض بٹ ،ڈاکٹر مقصود حسین جراح،طارق محمود،عثمان اعوان، خلیل احمد شاکر،ملک انوار الحق،ملک محمد عرفان،ابرار حسین بھٹی ،مہتاب احمد تابی، ظفر اقبال،ایم اسحاق حسرت،محبوب حسین جراح،چودھری صفدر حسین، عامر نواز اعوان،اکرم نور چکرالوی،محمد وحید،حاجی محمد اقبال،سفیر احمد،محمد فاروق عابد،ملک ظفر علیخان ،ملک محمد عادل خاں،ملک ظفر اقبال،محمدالیاس شامل ہیں اللہ تعالیٰ تمام مرحومین کو جنت الفردوس عطاء فرمائے
اللہ تعالیٰ آپ کا ہم سب کا حا می و ناصر ہو۔
اللہ نگہبان۔

Subscribe to comments feed Comments (0 posted)

total: | displaying:

Post your comment

  • Bold
  • Italic
  • Underline
  • Quote

Please enter the code you see in the image:

Captcha
  • Email to a friend Email to a friend
  • Print version Print version
  • Plain text Plain text

Tagged as:

No tags for this article

Rate this article

0