صفحہ اول | کالم | ایسے حادثات کئی قیمتی جانوں کو نگل جاتے ہیں اور کئی خاندانوں کو اجاڑ دیتے ہیں

ایسے حادثات کئی قیمتی جانوں کو نگل جاتے ہیں اور کئی خاندانوں کو اجاڑ دیتے ہیں

Font size: Decrease font Enlarge font
ایسے حادثات کئی قیمتی جانوں کو نگل جاتے ہیں اور کئی خاندانوں کو اجاڑ دیتے ہیں

دو ٹوک قاضی عبد القادر

دو ٹوک



قاضی عبد القادر



کراچی سے راولپنڈی آنیوالی تیز گام ایکسپریس میں صبح سویرے آگ بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے ہی تین بوگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اس واقعے میں تبلیغی جماعت کے افراد سمیت 70سے زائد مسافر جل کر جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ درجنوں زخمی بھی ہوئے ۔ وزارت ریلوے کے حکام نے آتشزدگی کی وجوہات جاننے کیلئے تحقیقا ت شروع کیں اور ابتدائی طور پر مسافروں کے زیر استعمال سلنڈروں کے دھماکے کو وجہ قرار دیدیا اور جاں بحق ہونیوالے ان افراد کیخلاف مقدمہ بھی درج کرا دیا گیا ۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید شدو مد سے مسافروں کو ہی اس آگ اور حادثے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں ۔ جبکہ پاکستان ریلویز کی غفلت اور مسافروں کے تحفظ کے ذمہ دار لوگوں کو بری الذمہ قرار دیا جارہا ہے ۔ بہرکیف شیخ رشید اپنے استعفیٰ کا مطالبہ گول کرتے ہوئے اس افسوسناک واقعے کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہیں ۔

1956 ء میں لال بہادر شاستری بھارت میں ریلوے کے وزیر تھے ، ان کے دور میں جنوبی بھارت میں ریل کا حادثہ ہوا ، اس حادثے میں 33 لوگ جاں بحق ہوئے ، لال بہادر شاستری نے حادثے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزارت سے استعفیٰ دیدیا ، ان کے استعفیٰ سے ایک برس بعد 29ستمبر 1957کو ساہیوال میں بھی ریل کا ایک حادثہ ہوا ، جس میں اڑھائی سو لوگ جاں بحق ہوئے ، اس دور میں ایک مشہور مسلم لیگی رہنما پاکستان ریلوے کے وزیر تھے ، قومی اسمبلی میں کسی رکن نے لال بہادر شاستری کا واقعہ بیان کیا اور وفاقی وزیر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ، اس موقع پر وزیر موصوف اسمبلی میں کھڑے ہوئے اور مسکراتے ہوئے کہا کہ میں الحمد اللہ مسلمان ہوں اور کسی مسلمان کو کسی ہندو کی پیروی نہیں کرنی چاہیے ، اور یوں ساہیوال واقعہ انکوائری کمیٹی کی فائلوں میں دب گیا ۔ پاکستان میں کئی سانحات ہوئے لیکن آج تک کسی نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ نہیں دیا بلکہ عوامی دباءو پر بعض وزراء سے استعفیٰ طلب کئے گئے جو بعد میں ڈرامہ بھی ثابت ہوئے پاکستان میں اب تک کئی ریلوے کے حادثات ہو چکے ہیں ، لیکن کسی نے ذمہ داری قبول کرکے استعفیٰ نہیں دیا ۔ ان حادثات میں آج تک کسی بڑے افسر ، وزیر ، کسی مشیر ، کسی چیئرمین ، اور کسی ڈائریکٹر جنرل کو سزا نہیں ہوئی ، پاکستان ریلوے کے حادثے میں دو افراد جاں بحق ہو جائیں یا پانچ سو لوگ آج تک سزا کا عمل کانٹا بدلنے والوں ، ڈرائیوروں ، اور سٹیشن ماسٹروں سے اوپر نہیں گیا ، یہ 1990کی بات ہے بے نظیر بھٹو کی حکومت تھی ، 3 جنوری 1990کو سانگی کے مقام پر ریلوے کا حادثہ ہوا ، اس حادثے میں 307 لوگ جاں بحق ہوگئے ۔ اس وقت یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا حادثہ تھا ، ظفر لغاری ریلوے کے وزیر تھے ، لوگ مطالبہ کر رہے تھے وفاقی وزیر اس حادثے کی ذمہ داری قبول کریں اور استعفیٰ دے دیں ۔ ظفر لغاری بھی خود کو حادثے کا ذمہ دار سمجھتے تھے ، لہذا انہوں نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کر لیا ، کابینہ کے اجلاس میں انہوں نے بے نظیر بھٹو کے کان میں سرگوشی کی’’ میں استعفیٰ لکھ کر لے آیا ہوں ‘‘ ابھی ان کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی کہ کسی دوسرے وزیر نے محترمہ کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ، محترمہ اس وزیر سے فارغ ہوئیں تو وہ ریلوے ، حادثے اور ظفر لغاری تینوں کو بھول چکی تھیں ، ظفر لغاری نے استعفیٰ وہیں پھاڑ دیا ، اور خاموشی سے دوبارہ کاروبار سلطنت میں مصروف ہوگئے ۔

بعد میں 13جولائی کو گھوٹکی واقعہ نے سب کو ہلا کر رکھ دیا جہاں تین مسافر ٹرینیں ٹکرا گئیں تھیں ، اس حادثے میں واضح پتہ چلتا تھا کہ ہمارے ریلوے کا انتظام انتہائی نا اہل ، اور سفاک لوگوں کے ہاتھوں میں ہے ، کیونکہ دنیا کہتی ہے کہ اگر دو ٹرینیں ٹکرا جائیں تو یہ حادثہ ہو سکتا ہے لیکن اگر ایک ہی جگہ پر تین ٹرینیں ٹکرا جائیں تو یہ حادثہ نہیں غفلت ، نا اہلی اورسفاکی ہوتی ہے ۔ جو اس حادثے میں دیکھنے میں آئی لیکن کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کیا اور فائلیں مٹی کے نیچے دب کر رہ گئیں ۔ بھارت اور پاکستان کے ریلوے نظام اور رویوں میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ بات تعریف کی نہیں حقائق کی ہے، بھارت کا ریلوے نظام ہر آنیوالے دن مضبوط ہو رہا ہے جبکہ ہم سبسڈی دیکر بھی مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں ۔ وہاں اگر اس قسم کے حادثہ ہو جائیں تو ریلوے وزیر پہلا شخص ہوتا ہے جو اپنا استعفیٰ پیش کرتا ہے

اگست 99 کو مغربی بنگال کے علاقے دینا چ پور میں دو ٹرینیں ٹکرا گئی تھیں ، اس حادثے میں بھارت کے 500مسافر مارے گئے تھے ، اس وقت نتیش کمار بھارت کے وزیر ریلوے تھے ، انہوں نے فورا اپنا استعفیٰ اس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کو پیش کردیا ۔ پوری قوم نے ان کے اس اقدام کو سراہا جبکہ ہمارے ملک میں کئی بار ایسے حادثے ہوئے ، کئی بار سینکڑوں مسافر جاں بحق ہوئے لیکن کسی وزیر ، مشیر نے استعفیٰ نہیں دیا ۔

ہمارے ہاں واقعہ ہو جائے تو اس کی انکوائری کے نتاءج ہی اتنے لٹکا دئیے جاتے ہیں کہ عوام بھول جاتی ہے ، اور وزیر موصوف ٹی وی پر آکر سینہ پھولا کر کہتے ہیں کہ ڈرائیور کو معطل کردیا ہے، آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے حفاظتی اقدامات اٹھائیں گے لیکن اگلے دن پھر کوئی بڑا سانحہ رونما ہو جاتا ہے ۔

تیز گام ایکسپریس میں آگ لگنے کے واقعہ نے سب کو ہلا کر رکھ دیا تھا ، میڈیا پر بہت شور اٹھا جو اب آہستہ آہستہ دب رہا ہے ۔ دیکھا جائے تو ہر دو صورتوں میں ریلوے کے عملہ کی مجرمانہ غفلت لگتی ہے کیونکہ ہمیشہ سلنڈر اور سامان وغیرہ سخت چیکنگ کے عمل سے گزر کر ہی کارگو حصہ میں رکھوائے جاتے ہیں کیونکہ ریلوے کے ضابطے کے مطابق مسافر خطرناک آتش گیر مواد ، جیسے کہ تیل ، گیس ، گیس سلنڈر وغیرہ ساتھ نہیں رکھ سکتے ۔ یہ اشیاء تمام تر احتیاطی تدابیر کیساتھ مسافر کارگو ٹرین یا مال گاڑی میں لے جاسکتے ہیں ۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ مسافر ٹرینوں میں اگرچہ عملہ تعینات ہوتا ہے اور وہ مسافروں کے سامان کی چیکنگ بھی کرتا ہے تاہم بعض اوقات سیکورٹی اہلکار غفلت برتتے ہیں اور چیکنگ نہیں کرتے ۔ دوسری جانب یہ بھی اہم انکشاف ہوا ہے کہ ریلوے سٹیشنز پر کوئی بڑے سکینرز استعمال نہیں ہوتے ، جبکہ آگ بجھانے والے آلات بھی محدود پیمانے پر مخصوص عملے کے پاس یا کوچز میں ہوتے ہیں ، یہ آلات چھوٹی یا محدود سطح کی آگ بجھانے کیلئے ہوتے ہیں جبکہ بڑے پیمانے پر آگ لگنے کی صورت میں یہ آلات کارگر ثابت نہیں ہوتے ۔ ویسے تو ریلوے پولیس ، الیکٹریکل سٹاف، میکنیکل سٹاف ، دیگر عملہ ، ٹکٹ چیکر ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود شارٹ سرکٹ کا علاج نہیں ہوتا ، پنکھے خراب ہو جائیں تو ٹھیک نہیں ہوتے ، بلب فیوز ہو جائے تو تبدیل نہیں ہوتا ریلوے حکام کے مطابق سلنڈر ممنوع اشیاء میں شامل ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ یہ اندر کیسے گیا ، دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر سلنڈر پھٹنے سے آگ لگی تو فوری ایکشن کیوں نہیں لیا گیا ، اور آگ کیسے دو دیگر بوگیوں میں پھیل گئی ، بعض عینی شاہدین کے مطابق آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی جو تین بوگیوں تک پھیل گئی، جبکہ بعض ماہرین نے یہ بھی سوال اٹھا دیا کہ بوگیوں کا میٹریل بھی ناقص ہو سکتا ہے یہ سارے سوال اپنی جگہ لیکن ماہرین کے مطابق یہ بات طے ہے کہ آگ ’’ ریلوے عملہ کی مجرمانہ غفلت ‘‘ کے باعث پھیلی ۔ لہذا ایسا میکنزم بنایا جائے کہ ریلوے کا سفر محفوظ بنے اور عملہ اپنی ذمہ داری نبھائے کیونکہ ایسے حادثات کئی قیمتی جانوں کو نگل جاتے ہیں اور کئی خاندانوں کو اجاڑ دیتے ہیں

Subscribe to comments feed Comments (0 posted)

total: | displaying:

Post your comment

  • Bold
  • Italic
  • Underline
  • Quote

Please enter the code you see in the image:

Captcha
  • Email to a friend Email to a friend
  • Print version Print version
  • Plain text Plain text

Tagged as:

No tags for this article

Rate this article

0