صفحہ اول | کالم | زنجیروں سے جکڑے بچے کی بازیابی

زنجیروں سے جکڑے بچے کی بازیابی

Font size: Decrease font Enlarge font
زنجیروں سے جکڑے بچے کی بازیابی

بچوں کی تربیت محبت و شفقت اور بہترین اخلاق سے کریں

تحریر

نذر حسین چودھری

ہمارے بعض ارسطو قسم کے فاضل دوستوں نے مدرسہ میں زنجیروں سے جکڑے 14 سالہ بچہ کی بازیابی اور میڈیا کوریج پر سوالات اٹھائے ہیں ;245; میری کوشش ہوتی ہے کہ جہاں اچھے تعلقات ہوں وہاں اختلافی باتوں سے دامن بچا کر سائیڈ پر ہو لیا جائے تو اس میں کم از کم میری سوچ کے مطابق شان میں کمی نہیں ہوتی ;245;

بہرحال بات مقامی مدرسہ کی ہو رہی تھی ;245; ہم مدرسہ والوں کی قدر کرتے ہیں خود میرا اپنا بھتیجا ماشاءاللہ حافظ قرآن ہے بیت السلام سے حفظ کرنے کے بعد اب مزید دینی تعلیم حاصل کرنے کے سلسلے میں بیت السلام کراچی میں مقیم ہے ;245;

اگر ہم عام دنیاوی اسکولوں میں مار پیٹ کے خلاف ہیں تو مدرسوں میں بھی تشدد کے خلاف ہیں ;245; ایک جائز حد تک بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ ضرور کرنی چاہئے ;245; لیکن زنجیروں سے جکڑنے کی کوئی منطق سمجھ نہیں آ رہی ;245; باقی مدرسے بھی تو ہیں وہاں سے ایسی کبھی کوئی شکایت نہیں آئی ;245; اس لئے تو ہم نے تلہ گنگ ٹائمز کے پیج پر اس مدرسے کانام لکھا کہ عام لوگوں کے ذہن میں ہو کہ صرف ایک فلاں مدرسہ کے مہتمم نے یہ کام کیا ہے ;245; یہ ایک مولوی کا انفرادی کام ہے جس کی اس کو سزا مل گئی ;245; میڈیا میں کوریج سے دیگر والدین اپنے بچوں کی خیر خبر سے مطلع رہینگے ;245;

اعراض کرنے والوں کو کیا پتہ ہے;238; کہ تین روز قبل موضع جھاٹلہ میں کیا ہوا ;245; وہاں بھی کم سن بچے کو نہ پڑھنے پر ناجائز حدڈانٹ ڈپٹ مارنے پیٹنے پر وہ بچہ زہریلی گولیاں کھا کر خود کشی کر گیا ;245; اب اس کا خون کس کے ہاتھ پر ہے;238238; والدین غم سے نڈھال ہیں یہ صرف ایک واقعہ نہیں ہے ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ بچے مار پیٹ سے تنگ آ کر گھروں سے بھاگ جاتے ہیں ;245; پھر وہ جرائم پیشہ افراد کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جبکہ دوسری جانب والدین ساری زندگی بچے کی ایک جھلک دیکھنے کےلئے نظریں جمائے دروازوں کو تکتے رہتے ہیں ;245;

قبل ازیں تلہ گنگ شہر میں ایک سکول میں بچوں پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہوئی جس کی میڈیا پر کوریج ہوئی اور ایکشن لیا گیا ، مار نہیں پیار کا بنیادی نقطہ سمجھنے کی ضرورت ہے اب وہ دور نہیں رہا کہ بچوں پر تشدد کرکے ان کی تربیت کی جائے وقت بدل رہا ہے موبائل فون اور انٹرنیٹ نے نئی راہیں دیکھا دی ہیں ، معاشرے میں افراتفری سے بچنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ ہ میں اسلامی اصولوں کے مطابق اپنے بچوں کی تربیت کا آغاز کرنا چاہیے

اب وہ دور نہیں رہا کہ آپ کو بچوں کو پنکھے کے ساتھ الٹا لٹکا دیں ;245;ڈانڈا اٹھا کر اس کی کمر توڑ دیں ، کم از کم اسلام میں سات سال تک بچوں کو پیار سے نماز پڑھانے کی تلقین کی گئی دس سال کی عمر میں انتہائی ہلکی پھلکی ڈانٹ ڈپٹ مارنے کی اجازت اس لئے دی گئی کہ وہ بچہ تین سال میں نماز پڑھنے کا عادی بن چکا ہوتا ہے اس لئے دس سال کی عمر میں اس کو مارنے کی ضرورت نہیں پڑتی ;245; (واضع رہے بات فرض کی ہو رہی ہے) اسلام نے یہ نہیں کہا کہ والد چھڑی اٹھائے دس سال کے بچے کو مارنا شروع کر دے ;245; ہر بات میں حکمت ہوتی ہے ;245; اگر والدین بچوں کے سامنے نماز پڑھیں قرآن پاک کی تلاوت کریں تو میرا ایمان اور یقین ہے کہ بچہ بغیر کسی کے کہے خود ہی نماز اور قرآن پاک پڑھنا شروع کر دے گا ;245; یہ تو نہیں ہو سکتا کہ خود والدین ہفتہ میں ایک بار نماز جمعہ پڑھیں اور بچے سے امید رکھیں کہ وہ تہجد گزار بنے ۔

موجودہ حالات میں جہاں انٹرنیٹ ، موبائل فون، اور سوشل میڈیا کا طوفان اٹھ رہا ہے وہاں پر محبت ، شفقت سے بچوں کی نگرانی اور تربیت کی ضرورت ہے ، لہذا اگر اسکولوں میں مارپیٹ کی خبریں نشر ہونے سے اسکولز بند نہیں ہوئے نا تو ان شاء اللہ مدرسے بھی بند نہیں ہونگے ;245;

مدارس اسلام کے قلعہ ہیں ، یہاں سے طالب علموں کی ایسی کھیپ تیار ہونی چاہیے جو آگے چل کر معاشرے کا خوب صورت چہرہ نہ صرف اپنے لوگوں کو دیکھائیں بلکہ بیرونی دنیا کیلئے بطور نمونہ ہوں اخلاق ، محبت و شفقت اور ایمانداری بہت بڑے ہتھیار ہیں جن سے ہر دل کو جیتا جاسکتا ہے ۔ اللہ پاک ہم سب کو سمجھ عطا فرمائے آمین

Subscribe to comments feed Comments (0 posted)

total: | displaying:

Post your comment

  • Bold
  • Italic
  • Underline
  • Quote

Please enter the code you see in the image:

Captcha
  • Email to a friend Email to a friend
  • Print version Print version
  • Plain text Plain text

Tagged as:

No tags for this article

Rate this article

0