صفحہ اول | خبریں | ضلع چکوال کی سیاست بڑی تیزی کیساتھ تبدیل ہونا شروع ہوگئی

ضلع چکوال کی سیاست بڑی تیزی کیساتھ تبدیل ہونا شروع ہوگئی

Font size: Decrease font Enlarge font
ضلع چکوال کی سیاست بڑی تیزی کیساتھ تبدیل ہونا شروع ہوگئی

تلہ گنگ: ضلع چکوال کی سیاست بڑی تیزی کیساتھ تبدیل ہونا شروع ہوگئی ہے اس وقت تمام نظریں سابق ضلع ناظم سردار غلام عباس پر لگی ہیں جنہوں نے مسلم لیگ ن سے علیحدگی اختیار کر کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی دونوں کی خواہش ہے کہ سردار غلام عباس ان کی جماعت میں شامل ہوں مگر سردار غلام عباس کاسیاسی سٹائل اور انداز روائتی سیاست یعنی وہ ضلع کی تمام نشستوں پر اپنی بالادستی چاہتے ہیں جس کی یقین دہانی پیپلز پارٹی تو کروا رہی ہے البتہ پاکستان تحریک انصاف نے ابھی تک سردار غلام عباس کو حلقہ این اے64پر ٹکٹ دینے کیلئے رضا مندی ظاہر کردی ہے،ادھر حال ہی میں لاہور میں ہونے والے دو جماعتوں کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں مسلم لیگ ق اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان صوبہ پنجاب کے علاوہ تلہ گنگ کی دو نشستوں پر بھی ایڈجسٹمنٹ ہو گئی جس کے تحت چوہدری پرویز الٰہی سربراہ مسلم لیگ ق حلقہ این اے 65میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ق کے مشترکہ امیدوار ہوں گے۔حلقہ پی پی 24کے لیے بھی مسلم لیگ ق نے نشست مانگ لی۔جس کے لیے ملک اسد ڈھیر مونڈ کا نام لیا جا رہا ہے۔ جبکہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حافظ عمار یاسر کو بھی صوبائی اسمبلی کی نشست پر سامنے لائے جانے کا امکان ہے تاہم عمران خان نے ابھی تک اس کے لیے حامی نہیں بھری ہے۔عمران خان کا موقف یہ ہے کہ جو مشکل وقت میں قربانی دیتے آئے ہے ان کو پیچھے نہ ہٹایا جا ئے۔کرنل سلطان سرخرو اعوان پی ٹی آئی کے بہادر سپاہی ہیں،اس ایڈجسٹمنٹ سے تحصیل تلہ گنگ سے سردار منصور حیات ٹمن عملی طور پر پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے حلقہ این اے 65سے تقریبا فارغ نظر آرہے ہیں۔جبکہ پی ٹی آئی کے فواد چودھری اور مقامی قیادت نے سختی سے نے ایڈجسٹمنٹ کی تردید کردی تاہم ق لیگ کے کامل آغا کے مطابق اعلی سطح رابطوں کا یہ ضروری نہیں کہ ہر کسی کو علم ہو ، لہذا کچھ دال میں کالا ضرور ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی بھی سردار غلام عباس کو حلقہ این اے 64میں جبکہ پی پی 23پر سردار آفتاب اکبر کو لانے کے خواہشمند ہے۔مسلم لیگ ن پر ہر آنے والے دن کے ساتھ دباؤ بڑھتا جا رہا ہے اپوزیشن متحد ہوتی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں یہ بات یقینی ہے کہ 31مئی کے بعد مسلم لیگ کو ایک بڑے سیاسی پل صراط سے گزرنا ہوگا۔ دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر مقابلہ پاکستان تحریک انصاف +مسلم لیگ ق اور مسلم لیگ ن کے درمیان ہے۔ سردار غلام عباس کے آزاد پینل سمیت باقی جماعتیں بھی اپنے امیدوار میدان میں اتاریں گی اور وہ کوئی قابل ذکر کارکردگی دکھانے کی پوزیشن میں نہیں۔بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر حلقہ این اے65 پر ملک شہر یار اعوان ، حلقہ پی پی 24 پر سردار اسد علی خان ڈھیر مونڈ یا کوئی بھی مضبوط امیدوار ، حلقہ پی پی 23 پر سردار آفتاب اکبر یا سردار عباس اور چکوال کے حلقہ این اے64 پر سردار غلام عباس آزاد پینل لے کر اترے تو بہتر نتائج دے سکتے ہیں تاہم ملک شہر یار اعوان اور ملک سلیم اقبال اس وقت میں مسلم لیگ ن میں ڈٹ کر کھڑے ہیں ۔ 31 مئی کے بعد مزید صورتحال واضح ہو گی ۔ 

Subscribe to comments feed Comments (0 posted)

total: | displaying:

Post your comment

  • Bold
  • Italic
  • Underline
  • Quote

Please enter the code you see in the image:

Captcha
  • Email to a friend Email to a friend
  • Print version Print version
  • Plain text Plain text

Tagged as:

No tags for this article

Rate this article

0