صفحہ اول | خبریں | ریسکیو1122 سالانہ رپورٹ ضلع چکوال

ریسکیو1122 سالانہ رپورٹ ضلع چکوال

Font size: Decrease font Enlarge font
ریسکیو1122 سالانہ رپورٹ  ضلع چکوال

تلہ گنگ( تلہ گنگ ڈاٹ کام)  ریسکیو1122کی جاری کردہ سالانہ رپورٹ کے مطابق ضلع چکوال میں گذشتہ سال 6994 افراد کو ریسکیو کیا گیا، 82 افراد مختلف حادثات میں جاں بحق ہوئے۔ریسکیو 1122چکوال ریسکیواسٹیشن پرمنعقدہ پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹرعتیق احمد خان ڈسٹرکٹ ایمرجینسی آفیسر ریسکیو1122 چکوال نے سالانہ کارکردگی ر پورٹ پیش کی, جس کے مطابق گذشتہ سال346865کالز موصول ہوئیں جن میں 6387ایمرجینسی کالزجو مجموعی کالز کا 2 فیصدہیں اور بوگس کالز کی تعداد 291958 جبکہ 48520 دیگرکالز ہیں۔ ایمرجینسیز کی تفصیلات کے مطابق 2045 ٹریفک حادثات، 3070میڈیکل ایمرجینسیز،118آگ لگنے،138 کرائم کے واقعات جن میں 18افراد موقع پر زندگی کی بازی ہار گئے، 12 ڈوبنے کی ایمرجینسیز جن میں 4 افراد ڈوب کر جا ن بحق ہوئے,عمارتیں منہدم ہونے کی 3 ایمرجنسیز،سلنڈر پھٹنے کا 1 واقعہ اوران کے علاوہ مختلف نوعیت کی 1000 ایمرجینسیزپر ریسکیو1122 چکوال سے ریسپانس کیا گیا، مختلف نوعیت کی ایمرجنسیز میں 29 جانوروں/پرندوں کو ریسکیو کیا گیا،35 کرنٹ لگنے،11 سانپ ڈ سنے اور 276 اونچائی سے گرنے کے واقعات شامل ہیں اس طرح جنوری تا دسمبر2018تک ٹوٹل6387 ایمرجینسیز ریکارڈ ہوئیں جن میں سے 9 میجر ایمرجنسیز نوٹ ہوئیں۔ ان حادثات میں 6994 افرادمتاثر ہوئے، 6209زخمیوں کو ابتدائی طبعی امداد مہیا کرنے کے بعد ہاسپٹل منتقل کیا گیا،703 کوجائے حادثہ پر طبعی امداد مہیا کی گئی جبکہ 82 موقع پر جاں بحق ہوئے.ڈسٹرکٹ ایمرجینسی آفیسر ڈاکٹرعتیق احمد خان نے بتایا کہ ایمرجنسی پر پہنچنے کا اوسط ٹائم 6منٹ 14 سیکنڈ رہا، 2018میں روڈ ٹریفک حادثات میں1935 مرد اور 474خواتین کو ریسکیو کیا گیا ان میں 676 ڈرائیور اور 1398 مسافر شامل تھے،جن میں سے 30موقع پر جاں بحق ہوئے یاد رہے جانبحق ہونے والوں کی تعدادسال 2017 میں 61تھی،1574موٹرسائیکل،244 کاریں، 35ٹرک،234رکشے،27بسیں،163وین اور اس کے علاوہ56دوسری گاڑیاں ان حادثات میں متاثر ہوئیں شامل ہیں 1283حادثات اوور سپیڈ کی وجہ سے پیش آئے،سب سے ذیادہ 765افراد جن کی عمر 21 سے30سال ہے حادثات کا شکار ہوئے،118 فائر ایمرجینسیز میں 4افراد زخمی ہوئے،53شارٹ سرکٹ اور 46 لاپرواہی کی وجہ سے آگ لگی،18.16ملین کا سامان جل گیا جبکہ 44.6ملین کا مال بچایا گیا،33کمرشل علاقہ جات میں جبکہ 46رہائشی علاقوں میںآگ لگی.گذشتہ سال پیشنٹ ٹرانسفر سروس کے ذریعے2169 مریضوں کو بہتر علاج کے لئے چھوٹے ہسپتالوں سے بڑ ے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیاجن میں سے 1867جدید سہولیات کی کمی کے باعث جبکہ 302مریض سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی کمی کے باعث منتقل کیے گئے۔ پیشنٹ ٹرانسفر سروس کے ذریعے 1942مریضوں کو دوسرے اضلاع میں منتقل کیا گیا جبکہ 6مریض دوسرے اضلاع سے چکوال منتقل ہوئے، ڈاکٹر عتیق احمد خان ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسرنے کمیونٹی سروسز کی کا رکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ریسکیو محافظ سروس اور ٹریننگ سیشنز کے ذریعے عوام میں حادثات سے بچاؤ،ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور ٹریفک قوانین کی پابندی کرنے کا شعور بیدار کرنے کی بھرپور جدوجہد جاری ہے،بلڈنگز کوآگ اور دیگر آفات سے محفوظ بنانے کے لئے ریکارڈ اکٹھا کیا جارہا ہے، محفوظ معاشرے کے قیام کے لئے ضلع بھر میںیونین کونسلز کی سطح پرکمیونٹی ایمرجنسی رسپانس ٹیمز بنائی جا رہی ہیں گذشتہ سال49 ٹیمز بنائی جا چکی ہیں جن کو CADREکورسز کراوائے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ تمام ریسکیورز مبارکباد کے مستحق ہیں جو اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر مخلوق خدا کی مدد کرتے ہیں ریسکیورز کے ذمہ خدمت خلق کا کام ہے جو بلاشبہ رضا الہی کے حصول کا سبب بن سکتا ہے اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی سر انجام دینا ہر ریسکیور کا فرض ہے، انہوں نے کہا کہ سال 2019میں مزید بہتر اندازاور نئے جذبے کے تحت سروس کو چلائیں گے،اس موقع پر ایمرجنسی آفیسر انجینئر سعید احمد، کنٹرول روم انچارج مرید سلطان اور میڈیا کوارڈینیٹر خرم منظور بھی موجود تھے

Subscribe to comments feed Comments (0 posted)

total: | displaying:

Post your comment

  • Bold
  • Italic
  • Underline
  • Quote

Please enter the code you see in the image:

Captcha
  • Email to a friend Email to a friend
  • Print version Print version
  • Plain text Plain text

Tagged as:

No tags for this article

Rate this article

0